پٹرولیم سیکٹر میں بڑاایکشن،’’گوپٹرولیم‘‘کمپنی کی32ہزارٹن سے زائد ایندھن کی ٹیکس چوری پکڑی گئی

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پٹرولیم درآمد کنندہ کمپنی’’گو‘‘اور پورٹ قاسم پر قائم کسٹمز لائسنس یافتہ بانڈڈ فیول ٹرمینل کیخلاف مبینہ طور پر ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کیے بغیر 32ہزار میٹرک ٹن سے زائد پٹرولیم مصنوعات بلیک مارکیٹ میں فروخت کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملزموں نے مبینہ طور پر درآمد شدہ پٹرولیم مصنوعات کو کسٹمز ڈیوٹی،ٹیکسز اور دیگر قانونی واجبات ادا کیے بغیر بانڈڈ نظام سے نکال کر غیر قانونی طور پر فروخت کیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق 22 جون کو محمود کوٹ، مظفرگڑھ میں کمپنی کے اسٹوریج ٹرمینل کے معائنے کے دوران صرف 7,039.7 میٹرک ٹن بانڈڈ پٹرول موجود تھا، جبکہ کسٹمز اور پائپ لائن ریکارڈ کے مطابق وہاں 39 ہزار میٹرک ٹن سے زائد اسٹاک ہونا چاہیے تھا۔ اس طرح تقریباً 32,081 میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات کی کمی سامنے آئی، جو ٹرمینل کی مجموعی ذخیرہ گنجائش سے بھی زیادہ تھی۔
پٹرولیم درآمد کنندہ کمپنی پر کسٹمز ڈیوٹی چوری کا الزام، 7 افراد اور 2 کمپنیاں مقدمے میں نامزد
ایف آئی اے کے مطابق یہ ایندھن پورٹ قاسم سے ایک آئل کمپنی کے پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے محمود کوٹ منتقل کیا گیا تھا، تاہم اس کی کسٹمز کلیئرنس اور ڈیوٹی کی ادائیگی کے لیے لازمی دستاویزات جمع نہیں کرائے گئے۔
ایف آئی آر میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ رواں سال کے آغاز میں بھی پورٹ قاسم کے بانڈڈ ٹرمینل سے تقریباً 4,744 میٹرک ٹن ہائی آکٹین فیول بغیر کسٹمز کارروائی کے فروخت کیا گیا، جس کے شواہد مبینہ طور پر ٹرمینل منیجر کے لیپ ٹاپ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے ملے۔
تحقیقات کے دوران ٹرمینل منیجر پر مشترکہ انسپکشن میں رکاوٹ ڈالنے، اسٹاک ریکارڈ اور کیلیبریشن ڈیٹا فراہم نہ کرنے اور سرکاری اسٹاک دستاویز پر دستخط سے انکار کرنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔
مقدمے میں دو کمپنیوں اور سات افراد، جن میں چیف ایگزیکٹو افسران بھی شامل ہیں، کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان کے خلاف کسٹمز ایکٹ، پاکستان پینل کوڈ کی جعلسازی اور فراڈ سے متعلق دفعات اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
اربوں روپے کے مبینہ فیول اسکینڈل کی تحقیقات، ایف آئی اے نے خصوصی عدالتوں سے رجوع کر لیا
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا پورٹ قاسم، فیصل آباد اور لاہور کے کسٹمز حکام یا آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے کسی اہلکار نے مبینہ بے ضابطگیوں میں سہولت کاری کی یا نہیں۔
دوسری جانب گو پاکستان (GO Pakistan) کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کمپنی تمام قانونی ٹیکس اور لیویز مقررہ مدت کے اندر ادا کرتی رہی ہے اور کمپنی کے ریکارڈ کے مطابق اس وقت بھی تمام واجبات کلیئر ہیں۔



