غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی پر8اسلامی ممالک کابڑاایکشن،اسرائیل کوسنگین نتائج سے خبردار کردیا

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے): غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے اسرائیلی منصوبوں اور بیانات پر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ سمیت 8 اسلامی ممالک نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کو دوٹوک خبردار کردیا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

ترک وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ بیان جاری کیا گیا، جس میں اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی اسرائیل کاٹز کی جانب سے غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے سے متعلق بیان کی شدید مذمت کی گئی۔

مشترکہ بیان میں فلسطینیوں کو ان کی اپنی سرزمین سے جبری طور پر بے دخل کرنے کے منصوبوں اور تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس نوعیت کے اشتعال انگیز بیانات بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور فلسطینی عوام کے جائز اور ناقابل تنسیخ حقوق کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

آٹھوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ وہ فلسطینیوں کی بے دخلی کی کسی بھی کوشش یا منصوبے کو یکسر مسترد اور اس کی مذمت کرتے ہیں، خواہ یہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اندرونی سطح پر ہو یا بیرونی سطح پر۔

مشترکہ بیان میں سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ فلسطینیوں کو جبری طور پر بے دخل کرنے کے بیانات کو سرکاری پالیسی میں تبدیل کرنا یا انہیں غزہ سے نکالنے کے لیے عملی اقدامات کرنا خطے میں سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

وزرائے خارجہ نے کہا کہ ایسے اقدامات غزہ میں امن کے قیام کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو بھی براہِ راست نقصان پہنچائیں گے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے سمیت دیگر سفارتی کوششیں شامل ہیں اور جن میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو واضح طور پر مسترد کیا گیا ہے۔

مشترکہ بیان میں مزید زور دیا گیا کہ غزہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین کا مکمل اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے، جبکہ غزہ اور مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں فلسطینی وحدت کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کے اس مشترکہ مؤقف کے بعد غزہ سے فلسطینیوں کی ممکنہ بے دخلی کا معاملہ ایک مرتبہ پھر عالمی سفارتی محاذ پر شدت اختیار کرگیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button