اسماعیل ہنیہ کے بھتیجے بھی اسرائیلی فوج کے حملے میں شہید ہوگئے

لندن(جانوڈاٹ پی کے)حماس کے شہید سربراہ اسماعیل ہنیہ کے گھرانے کے ایک اور نوجوان نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت میں جام شہادت نوش کرلیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ غزہ میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں حماس کے عسکری ونگ کے ایک اہم کمانڈر ولید ہنیہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ترجمان اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ ولید ہنیہ حماس کی نخبا فورس کی ایک کمپنی کے نائب کمانڈر تھے اور 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر کیے گئے حماس کے حملے کے دوران سرحد پار کارروائی کرنے والے جنگجوؤں کی قیادت کی تھی۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ ولید ہنیہ نہ صرف حملہ آور گروپ کو آپریشنل ہدایات فراہم کر رہے تھے بلکہ وہ اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کرنے کی کارروائی میں ملوث تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حالیہ مہینوں میں ولید ہنیہ حماس کے لیے نئے جنگجو بھرتی کرنے، عسکری تنظیم نو اور نخبا فورس کے اہلکاروں کو فوجی تربیت دینے میں بھی سرگرم کردار ادا کر رہے تھے۔
ترجمان اسرائیلی فورس نے کہا کہ ولید ہنیہ کی انھی سرگرمیوں کی بنیاد پر وہ ہمارا ایک اہم عسکری ہدف قرار دیا۔ ان کا تعاقب کیا جا رہا تھا اور آج انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اس آپریشن کو مکمل کرلیا گیا۔
تاہم ترجمان اسرائیلی فوج نے حملے کی جگہ اور اس میں ہونے والے دیگر ممکنہ جانی نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ یہ کارروائی کن انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔
دوسری جانب حماس نے فوری طور پر اسرائیلی دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی جبکہ تنظیم کی جانب سے ولید ہنیہ کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان بھی سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو گزشتہ برس ایرانی دارالحکومت تہران میں ایک حملے میں شہید ہو گئے تھے جس کا الزام ایران اور حماس نے اسرائیل پر عائد کیا تھا تاہم اسرائیل نے اس حوالے سے طویل عرصے تک سرکاری مؤقف اختیار نہیں کیا تھا۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں جہاں اسماعیل ہنیہ نے خود اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے وہیں ان کے اہل خانہ اور قریبی عزیز بھی جدوجہد آزادی فلسطین کے دوران اپنی سرزمین پر قربان ہوچکے ہیں۔



