سردیوں میں بجلی صارفین پر مہنگائی کا نیا وار ہونے کا خدشہ، دسمبر سے فروری تک لوڈشیڈنگ کے ساتھ بجلی بھی مہنگی ہونے کا امکان

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)سردیوں میں بجلی صارفین پر مہنگائی کا نیا وار ہونے کا خدشہ، دسمبر سے فروری تک لوڈشیڈنگ کے ساتھ بجلی بھی مہنگی ہونے کا امکان، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ دو سے تین گنا بڑھ سکتی ہے جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت فی یونٹ ایک روپے 30 پیسے اضافے کا تخمینہ لگا لیا گیا۔
پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق پانی کی قلت کے باعث پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی کا امکان ہے، جس سے بجلی کی مجموعی پیداواری لاگت بڑھ سکتی ہے۔ دسمبر، جنوری اور فروری کے دوران صارفین کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کے ساتھ قیمتوں میں اضافے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ارسا سردیوں میں پانی کی قلت کا 22 فیصد سے زائد تخمینہ دے چکی ہے، جس کے باعث پن بجلی کی پیداوار نہ ہونے کے برابر رہنے کا امکان ہے۔ بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مہنگے ایندھن پر انحصار بڑھ سکتا ہے۔
عالمی منڈی میں ایل این جی، کوئلے اور دیگر ایندھن کی قیمتیں بلند سطح پر پہنچنے کے باعث بجلی کی پیداواری لاگت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ سردیوں میں پاور پلانٹس کو مقامی گیس کی فراہمی بھی ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دسمبر سے فروری تک بجلی کی لوڈ مینجمنٹ میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق آئندہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی ایک روپے 30 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا تخمینہ ہے، جس سے صارفین پر مجموعی طور پر 22 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت بھی ہو چکی ہے۔ سی پی پی اے کی درخواست منظور ہونے کی صورت میں صارفین پر تقریباً 33 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔



