موبائل صارفین پر ٹیکسوں کی بارش، پاکستان دنیا میں سرفہرست

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)عالمی معاشی تحقیقی ادارے فرنٹیئر اکنامکس کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بھی دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں موبائل سروسز پر سب سے زیادہ ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، اور یہی بھاری ٹیکس ڈیجیٹل ترقی میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موبائل سروسز پر مجموعی سیلز اور ٹرن اوور ٹیکس کی شرح 37 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس میں 19.5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس، 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس اور 2.5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی شامل ہے۔

عالمی تحقیقی ادارے نے سفارش کی ہے کہ موبائل سروسز پر عائد مجموعی ٹیکس کو 37 فیصد سے کم کرکے 17 فیصد کیا جائے، جبکہ صارفین سے وصول کیا جانے والا 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔

رپورٹ میں مزید تجویز دی گئی کہ سالانہ 2.5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کم کرکے 1 فیصد اور جنرل سیلز ٹیکس 19.5 فیصد سے کم کرکے 16 فیصد کیا جائے تاکہ ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ٹیکسوں میں کمی سے پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ کے استعمال، ڈیجیٹلائزیشن اور حکومتی محصولات میں طویل المدتی اضافہ ممکن ہوگا، جبکہ موبائل آپریٹرز کی آمدن میں بھی تقریباً 6.4 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ سفارش بھی کی گئی کہ موبائل سروسز، سم کارڈز اور رسائی سے متعلق اضافی چارجز ختم کیے جائیں اور ان اصلاحات کو پاکستان کی وسیع تر ڈیجیٹلائزیشن حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button