وزیرآباد: شہد کی مکھیاں سیلاب میں بہہ گئیں،20 لاکھ روپے کانقصان، محنت کش کی حکومت سے امداد کی اپیل

وزیرآباد(جانوڈاٹ پی کے)رزق کی تلاش میں آیا پردیسی، ایک رات کے بارشی سیلاب نے عمر بھر کی کمائی بہا دی۔ بڈھ بیر پشاور متاثرہ شخص ساجد خان کی حکومت وقت سے مدد کی اپیل۔ وزیرآباد کے نواحی علاقے جنڈیالہ کے قریب جب مون سون کی بارشوں نے تباہی مچائی تو پانی کے تیز ریلے نے صرف زمینوں اور راستوں کو ہی نہیں نگلا، بلکہ ایک محنت کش انسان کی برسوں کی کمائی، امیدیں اور خواب بھی اپنے ساتھ بہا لے گیا۔پشاور کے علاقے بڈھ بیر سے تعلق رکھنے والے ساجد خان اپنے خاندان کے واحد کفیل ہیں۔ وہ مگس بانی کے پیشے سے وابستہ ہیں، ایک ایسا محنت طلب کاروبار جس میں شہد کی مکھیوں کے ڈبوں کو موسم اور پھول دار فصلوں کے مطابق مختلف علاقوں میں منتقل کرنا پڑتا ہے تاکہ مکھیاں شہد تیار کر سکیں۔ رزق حلال کی تلاش میں وہ سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کرکے وزیرآباد آئے اور جنڈیالہ ڈھاب والا کے قریب ہائی وے کی سائیڈ پر اپنے تقریباً دو سو شہد کے ڈبے رکھ کر روزگار کمانے لگے۔مگر قدرت کی ایک اچانک آزمائش نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ حالیہ مون سون بارشوں کے دوران پانی کی گزرگاہ کا بند ٹوٹا تو پلک جھپکتے ہی سیلابی پانی ان کے کاروبار پر ٹوٹ پڑا۔ دیکھتے ہی دیکھتے تمام ڈبے پانی میں ڈوب گئے، لاکھوں شہد کی مکھیاں یا تو پانی میں مر گئیں یا بکھر کر ہمیشہ کے لیے ضائع ہوگئیں۔ ساجد خان بے بسی سے یہ منظر دیکھتے رہے مگر کچھ نہ کر سکے۔اس ایک حادثے نے انہیں صرف کاروباری نقصان ہی نہیں پہنچایا بلکہ وہ قرضوں کے بوجھ تلے بھی دب گئے۔ ان کے مطابق وہ تقریباً بیس لاکھ روپے کے نقصان سے دوچار ہوئے ہیں۔ اب ان کے پاس صرف چند ڈبے باقی بچے ہیں، جبکہ عمر بھر کی جمع پونجی، محنت اور مستقبل کی امیدیں پانی میں بہہ چکی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ مگس بانی کے پیشے میں انہیں پہلے کبھی ایسی تباہی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔پردیس میں رہ کر اپنے بچوں کے لیے رزق کمانے والا یہ محنت کش آج بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ اس کی نظریں اب حکومت پنجاب اور مخیر حضرات کی طرف لگی ہیں۔ ساجد خان کی اپیل ہے کہ اگر ان کے تباہ شدہ کاروبار کی بحالی میں مدد کر دی جائے تو وہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی خیرات کے طلبگار نہیں، صرف اتنا سہارا چاہتے ہیں کہ دوبارہ اپنی محنت کے بل بوتے پر اپنے خاندان کا پیٹ پال سکیں۔

مزید خبریں

Back to top button