فیفا ورلڈ کپ 2026ء فائنل کے ٹکٹ کی قیمت 64 کروڑ روپے تک پہنچ گئی

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے\مانیٹرنگ ڈیسک) فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے فائنل سے قبل ارجنٹینا اور اسپین کے درمیان تاریخی مقابلہ دیکھنے کے خواہشمند شائقین کو حیران کن قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا، جہاں میچ سے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت پہلے بعض ٹکٹوں کی قیمت 23 لاکھ امریکی ڈالر (تقریباً 64 کروڑ پاکستانی روپے) تک پہنچ گئی۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فیفا کے سرکاری ری سیل پلیٹ فارم پر فائنل کے ٹکٹوں کی قیمتیں تقریباً 10 ہزار امریکی ڈالر سے شروع ہو کر 23 لاکھ ڈالر تک جا پہنچیں، جس کے بعد عام شائقین کے لیے اسٹیڈیم میں جا کر فائنل دیکھنا تقریباً ناممکن قرار دیا گیا۔

میسی اور لامین یامال کے مقابلے نے مانگ بڑھا دی

رپورٹ کے مطابق ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی اور اسپین کے نوجوان اسٹار لامین یامال کے درمیان متوقع تاریخی مقابلے نے ٹکٹوں کی طلب میں غیرمعمولی اضافہ کر دیا، جس کے باعث ری سیل مارکیٹ میں قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔

فائنل سے ایک روز قبل فیفا کی آفیشل ویب سائٹ پر کوئی ٹکٹ دستیاب نہیں تھا، جبکہ ری سیل پلیٹ فارم پر محدود ٹکٹ انتہائی مہنگے داموں فروخت کیے جا رہے تھے۔

ورلڈ کپ کے بیشتر میچز ہاؤس فل رہے

رپورٹس کے مطابق 48 ٹیموں پر مشتمل تاریخ کے سب سے بڑے فیفا ورلڈ کپ میں شائقین کی دلچسپی غیرمعمولی رہی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق گروپ مرحلے کے 72 میچز میں سے نصف سے زیادہ مکمل طور پر ہاؤس فل رہے، جبکہ باقی مقابلوں میں بھی صرف چند نشستیں خالی رہیں۔

ابتدائی مرحلے میں گروپ میچ کا مہنگا ترین ٹکٹ 575 امریکی ڈالر رکھا گیا تھا، جو 2022ء کے ورلڈ کپ کے مہنگے ترین گروپ ٹکٹ سے بھی دوگنا سے زیادہ تھا۔

‘سلو ٹکٹنگ’ حکمت عملی اور ری سیل قوانین

ماہرین کے مطابق منتظمین نے سلو ٹکٹنگ حکمت عملی اختیار کی، جس کے تحت محدود تعداد میں ٹکٹ جاری کیے گئے تاکہ طلب میں اضافہ ہو اور شائقین جلد خریداری پر مجبور ہوں۔

دوسری جانب امریکا میں ٹکٹوں کی دوبارہ فروخت (ری سیل) سے متعلق نسبتاً نرم قوانین نے بھی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کو ممکن بنایا، جبکہ شریک میزبان میکسیکو میں ری سیل کرنے والوں کو اصل خریداری قیمت سے زیادہ پر ٹکٹ فروخت کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

ورلڈ کپ امریکا کی تاریخ کا مہنگا ترین اسپورٹس ایونٹ

امریکی جریدے فوربس کے مطابق فیفا ورلڈ کپ 2026ء امریکا کی تاریخ کا سب سے مہنگا کھیلوں کا ایونٹ ثابت ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ فائنل کے میدان کی گھاس کے چھوٹے ٹکڑے بھی یادگاری اشیاء کے طور پر کم از کم 450 امریکی ڈالر میں فروخت کیے گئے، جس پر شائقین نے شدید تنقید کی۔

مزید خبریں

Back to top button