ٹیکس چوری کی غلط معلومات،سینیٹ کمیٹی نے چیف آپریشنز ایف بی آر کو اجلاس سےباہرنکال دیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)ٹیکس چوری کی غلط معلومات دینے رپ سینیٹ کمیٹی نے چیف آپریشنز ایف بی آر کو اجلاس سے باہر  نکال دیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں تمباکو، ٹیکس چوری اور سگریٹ اسمگلنگ سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وزارت اطلاعات سے تمباکو سے متعلق ٹی وی چینلز کو جاری کیے گئے اشتہارات کی تفصیلات طلب کر لی گئیں، جبکہ پورے پاکستان میں سگریٹ بنانے والی کمپنیوں اور برانڈز کی فہرست اور ان کی جانب سے ادا کیے گئے ٹیکس کی مکمل تفصیلات بھی طلب کی گئیں۔

اجلاس کے دوران ٹیکس چوری کے معاملے پر غلط معلومات فراہم کرنے پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو چیف آپریشنز ایف بی آر پر سخت برہم ہوگئے۔ انہوں نے ’گیٹ آؤٹ فرام کمیٹی‘ کہتے ہوئے چیف آپریشنز ایف بی آر کو اجلاس سے باہر جانے کی ہدایت کی۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایسے گندے افسران کو اہم عہدوں پر بٹھایا گیا ہے جو غلط معلومات فراہم کر رہے ہیں، متعلقہ وزیر کو لکھا جائے کہ انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 3 سے 4 افسران نے پورے ملک کا بیڑا غرق کر رکھا ہے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ جب بھی وہ ایف بی آر کو کمیٹی میں طلب کرتے ہیں تو اسی روز انہیں نوٹس بھیج دیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایف بی آر کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کی کوئی تمباکو کمپنی نہیں ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ چند مخصوص افسران سے ملک کو نجات دلائی جائے۔

اجلاس میں 25 کروڑ روپے مالیت کے سگریٹ چوری کیس کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایف آئی اے حکام سے استفسار کیا کہ اس معاملے میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا کہ انکوائری مکمل ہو چکی ہے اور اب مقدمہ درج کیا جائے گا، جبکہ کیس پشاور منتقل کرکے وہاں مقدمہ درج کیا جائے گا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق انکوائری میں ڈی سی کسٹمز اور 2 انسپکٹرز قصوروار قرار پائے ہیں۔

اس موقع پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ اپنے ڈی جی کو بتائیں کہ پنجاب والے کمالات اسلام آباد میں بھی دکھائیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ایسا کون سا دباؤ ہے جس کے باعث ابھی تک مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ اس کیس میں اب تک ان کے پاس کوئی سفارش نہیں آئی، تاہم سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ان کے پاس اس معاملے میں 20 سے زائد سفارشیں آ چکی ہیں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ آج ہی مقدمہ درج کرکے اس کی نقل فوری طور پر کمیٹی کو بھجوائی جائے، جبکہ ملک سے فرار ڈی سی کسٹمز کو انٹرپول کے ذریعے واپس لانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔

اجلاس کے دوران ذیلی کمیٹی نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ بادشاہ خان وزیر جن مقدمات میں ملوث ہیں، ان سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف کو آگاہ کیا جائے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں 100 ارب روپے مالیت کا خام مال منگوایا گیا، جبکہ ایسے علاقوں میں مجموعی طور پر 859 ملز کام کر رہی ہیں۔ اس موقع پر سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ صورتحال ایسی محسوس ہو رہی ہے جیسے ہم کسی لڑائی کی طرف جا رہے ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس مؤقف سے مطمئن نہیں کہ ڈی سی ہی واحد ڈیفالٹر ہے۔

سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے بریفنگ پیپرز میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ ایف بی آر کوئی تفصیل دینے کو تیار نہیں تو بتائیں کیا کیا جائے؟۔ ٹیکس چھوٹ والے علاقوں میں 859فیکٹریوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ پچھلے کمیٹی اجلاس میں بھی ایف بی آر نے تفصیلات نہیں دیں۔ کل بھی میرے اسٹاف نے کال کی تو متعلقہ افسر نے ریکارڈ نہیں دیا۔ آج بھی وہ افسر ریکارڈ نہیں دے رہاتھا،  اس لیے ہم نے اس کو کمیٹی اجلاس سے نکال دیا ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ بادشاہ خان وزیر کے خلاف کیسز ایف آئی اے دوبارہ ٹیک اپ کرے۔

سینیٹر دلاور نے کہا کہ بادشاہ خان وزیر ممبر لیگل ایف بی آر کے عہدے پر ہے جس وجہ سے اس نے خود کو بچایا۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سیگریٹ چوری کے معاملے پر رپورٹ کسٹم نہیں دے رہی تھی۔ ہم نے سیگریٹ چوری کی رپورٹ بھی ایف آئی اے کو 20 منٹ میں دلوائی۔ اگر ہم اپنے افسران کی عزت نہیں کریں گے وہ کام کیسے کریں گے؟۔ کوئی بھی معلومات ایف بی آر کی جانب سے نہیں دی گئی۔ ٹیکس سے مستثنٰی علاقوں نے دوبارہ اپیل کی ہے کہ ٹیکس فری کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button