نئے صوبوں کیلئے عوامی ریفرنڈم کرایا جائے، کراچی کو خصوصی سندھ کا درجہ دیا جائے، فاروق ستار

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے عوامی ریفرنڈم کرانے کی تجویز دے دی۔
کراچی میں گریجویٹ فورم پاکستان کے زیر اہتمام قومی مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ موجودہ چاروں صوبوں پر چند خاندانوں کا راج ہے اور سٹیٹس کو برقرار ہے۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ملک معاشی، سیاسی اور شراکتی طور پر خودمختار نہیں، جبکہ 18ویں ترمیم کے بعد خودمختار صوبوں سے بہتری کی توقع تھی لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے آئینی ترمیمی بل جمع کرا دیا ہے، جس میں بلدیاتی اداروں کے اختیارات واضح طور پر طے کیے جائیں گے۔ دنیا مصنوعی ذہانت کے دور میں بہت آگے جاچکی ہے لیکن پاکستان آج بھی مؤثر نظام کے قیام کے معاملے پر بحث کررہا ہے۔
فاروق ستار نے تجویز دی کہ سندھ کے ڈویژنز کو شمالی، وسطی، جنوبی، مغربی اور مشرقی سندھ میں تقسیم کیا جائے جبکہ کراچی کو خصوصی سندھ کا درجہ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے شہروں اور دیہات کو براہ راست اختیارات اور وسائل فراہم کیے جانے چاہئیں۔
رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ مارشل لا کے ادوار میں بھی مقامی حکومتیں قائم ہوئیں، تاہم جمہوری حکومتوں کے برسر اقتدار آنے پر بلدیاتی نظام ختم کردیا گیا۔ ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 239(4) کو وڈیروں اور جاگیرداروں نے جان بوجھ کر برقرار رکھا۔
فاروق ستار نے سوال اٹھایا کہ جب پارلیمان آئین اور قانون سازی کرتی ہے تو صوبوں کو بلاجواز یہ اختیار کیوں دیا گیا؟ کسی بھی سیاسی جماعت کے منشور میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا واضح ذکر موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 48 کی شق 6 کے تحت عوام کی رائے معلوم کی جائے اور انہیں یقین ہے کہ لاڑکانہ سمیت سندھ کے دیگر علاقوں کے عوام نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کریں گے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے نئے صوبوں کے حق میں شاہراہ فیصل پر مشترکہ ریلی نکالنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی بقا، سلامتی اور خوشحالی کا سوال ہے۔ پورے ملک یا ان علاقوں میں جہاں نئے صوبوں کا مطالبہ موجود ہے، عوامی ریفرنڈم کرایا جائے۔



