آسمان کا قہر، زمین کا انتقام:جنگلاتی آگ سے 100 سال سے سوئے ہوئے قاتل بیدار

​نہال معظم

​تصور کریں، ایک طرف آپ کے سر پر آسمان سے آگ برس رہی ہو، سانس لینا دوبھر ہو، اور دوسری طرف جس زمین پر آپ جان بچانے کے لیے بھاگ رہے ہوں، وہی زمین اچانک آپ کے قدموں تلے دھماکے سے پھٹ پڑے۔ یورپ کا عام شہری آج اسی دوہرے عذاب کی زد میں ہے۔ صدیوں سے خوبصورتی اور سکون کا استعارہ سمجھے جانے والے یہ سرسبز جنگلات اور خاموش ندی نالے اب ہولناک جہنم کا منظر پیش کر رہے ہیں، جہاں ایک عام انسان قدرت کی ناراضی اور تاریخ کی وحشت کے درمیان پس رہا ہے۔

​اس قیامت خیز منظرنامے کی شروعات یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی اور طویل خشکسالی سے ہوئی۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے بھیانک اثرات نے پورے خطے کو تنور کی طرح تپا دیا ہے۔ تیز اور سوکھی ہواؤں نے جنگلات کو ایسے خشک کیا جیسے بارود کی بوری، اور پھر ایک چھوٹی سی چنگاری نے مغربی یورپ کے وسیع علاقوں اور ہزاروں ایکڑ پر محیط جنگلات کو شعلوں کی لپیٹ میں لے لیا۔ ہزاروں لوگ اپنے آبائی گھروں، بچپن کی یادوں اور محنت کی کمائی کو لمحوں میں راکھ بنتا دیکھ کر صرف ایک کپڑے میں نکل بھاگنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ فضا میں پھیلتا زہریلا دھواں، بجلی کے کٹے ہوئے نظام اور ابھرتے ہوئے سیلاب نے انسان کو بے بس اور لاچار کر کے رکھ دیا ہے۔

​لیکن انسانی عقل اور اعصاب کو مفلوج کر دینے والا اصل موڑ تب آیا جب اس آگ کی شدید تپش زمین کی گہرائیوں میں اتر گئی۔ یورپ کی اس جلتی ہوئی مٹی نے اپنے اندر چھپائے وہ زہریلے اور مہلک راز اگلنا شروع کر دیے ہیں جو پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے خاموشی سے دفن تھے۔ فرانس، جرمنی، بیلجیئم اور نیدرلینڈز کے جنگلات اور زمینوں میں، جہاں کبھی ماضی کی خونی جنگیں لڑی گئی تھیں، اب دہائیوں پرانے زنگ آلود بم، نیول مائنز اور غیر فعال گولہ بارود اس آگ کی گرمی سے اچانک خود بخود پھٹ رہے ہیں۔ جنوب مغربی فرانس میں بورڈو شہر کے قریب لگنے والی آگ نے دوسری عالمی جنگ کے زمانے کے مہلک گولہ بارود کے ڈھیر کو بے نقاب کر دیا، جبکہ مشرقی بیلجیئم کے صوبے لیئژ میں، جو جرمنی کی سرحد تک پھیلا ہوا ہے اور جہاں کبھی دوسری عالمی جنگ کی خونریز "بیٹل آف دی بلج” لڑی گئی تھی، آج شعلوں کے درمیان وقفے وقفے سے اندھے دھماکوں کی آوازیں گونج رہی ہیں۔

​فائر فائٹرز اور امدادی کارکن جو شعلوں پر قابو پانے کے لیے جنگل میں داخل ہوتے ہیں، انہیں اب نہ صرف آگ کا مقابلہ کرنا ہے بلکہ زیرِ زمین دفن اس بارود سے بھی اپنی جان بچانی ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ لندن کی ایس او اے ایس (SOAS) یونیورسٹی سے وابستہ امن و تنازعات کی ماہر سارہ نجیری کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی اب اس جنگی مواد کو دوبارہ زمین سے باہر لا کر متحرک کر رہی ہے جو طویل عرصے سے محفوظ دفن تھا۔ دوسری طرف، ایریزونا یونیورسٹی کی محقق کرسٹینا گرین کے بقول ماضی کی جنگوں کے یہ اثرات اب ایک نئے روپ میں انسانوں کے سامنے آ رہے ہیں۔ دریاؤں میں پانی کا سطح کم ہونے سے جرمن جنگی جہازوں کے ملبے، جنگی موٹر سائیکلیں اور بم ننگے ہو کر سطح پر آ چکے ہیں۔ یورپ کی یہ جنگلاتی آگ محض ایک موسمیاتی حادثہ نہیں، بلکہ یہ انسان کی اپنی لائی ہوئی ماحولیاتی تباہی اور اس کی خونخوار تاریخ کے اتحاد کی وہ دردناک داستان ہے جس کی قیمت آج کا معصوم انسان چکانے پر مجبور ہے۔

مزید خبریں

Back to top button