زمین کی الٹی گنتی شروع،9میں سے7حدیں پار،قیامت بس دو قدم دور

نہال معظم
تصور کریں کہ ہماری زمین ایک ایسے مریض کی طرح ہے جس کے جسم کے تقریباً تمام اہم اعضا ایک ساتھ خراب ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں سائنسدانوں نے ہمارے اس مسکن سیارے کا ایک تفصیلی طبی معائنہ کیا ہے جسے "پلانیٹری ہیلتھ چیک” کا نام دیا گیا ہے، اور اس کے نتائج انتہائی چونکا دینے والے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق، زمین کی صحت کے لیے جو نو بنیادی اصول اور حدیں مقرر کی گئی تھیں تاکہ اس سیارے پر زندگی کا توازن برقرار رہ سکے، ان میں سے سات حدیں انسانوں نے توڑ دی ہیں اور وہ تمام اپنی بدترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی: زمین کا بخار چڑھ گیا
ان ٹوٹی ہوئی حدوں میں سب سے خطرناک موسمیاتی تبدیلی ہے، جہاں فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کا بے تحاشا اضافہ کرہ ارض کے درجہ حرارت کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔
حیاتیاتی تنوع کا زوال: فطرت کی آخری سانسیں
اس کے ساتھ ہی جنگلات اور قدرتی ماحول کی تباہی نے جانوروں اور پودوں کی ہزاروں اقسام کو ختم کر دیا ہے، جسے حیاتیاتی تنوع کا زوال کہا جاتا ہے۔
زمین کے استعمال میں تبدیلی: جنگلات کی موت کا منظر نامہ
انسان نے قدرتی زمین اور جنگلات کو کاٹ کر انہیں رہائش گاہوں، زراعت اور صنعتوں میں بدل دیا ہے، جس سے زمین کے استعمال کا نظام مکمل طور پر بگڑ چکا ہے۔
پانی کے قدرتی چکر میں بگاڑ: خشک ہوتے چشمے، بگڑتے دریا
اسی طرح میٹھے پانی کے ذرائع کا بے دریغ استعمال اور قدرتی آبی نظام کا توازن بگڑنا بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔
کیمیائی آلودگی اور بائیو جیو کیمیکل بہاؤ: ہوا اور پانی میں گھولا ہوا زہر
زمین اور پانی میں نائٹروجن اور فاسفورس جیسے کیمیکلز کا ضرورت سے زیادہ استعمال اس حد کے ٹوٹنے کی بڑی وجہ ہے۔
نئے مصنوعی عناصر کا پھیلاؤ: پلاسٹک کے سمندر میں ڈوبتی دنیا
پلاسٹک اور مائیکرو پلاسٹک سمیت ہزاروں مصنوعی کیمیکلز کا ماحول میں پھیل جانا بھی زمین کے لیے شدید خطرہ بن چکا ہے۔
سمندروں کا تیزابی ہونا: نیلے سمندر کا آہستہ آہستہ خاتمہ
اور سمندروں کے پانی کی کیمیائی حالت کا تبدیل ہو کر تیزابی ہونا سمندری حیات کے لیے موت کا پیغام ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جو دو حدیں جو ابھی بچی ہیں: کیا واقعی محفوظ ہیں؟
زمین کی نو بنیادی حدوں میں سے سات تو انسانوں نے توڑ دی ہیں، لیکن ابھی دو ایسی حدیں باقی ہیں جو فی الحال محفوظ دائرے میں سمجھی جاتی ہیں۔ یہ دو حدیں ہیں:
فضا میں اوزون کی تہہ: بچی ہوئی ڈھال
پہلی حد فضا میں موجود اوزون کی تہہ ہے۔ یہ تہہ سورج کی خطرناک بالائے بنفشی شعاعوں کو روک کر زمین پر زندگی کو بچاتی ہے۔ سن 1980 کی دہائی میں جب سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ کلوروفلورو کاربن جیسے کیمیکلز اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، تو دنیا بھر نے مل کر مونٹریال پروٹوکول کے تحت ان کیمیکلز پر پابندی لگا دی۔ اس اجتماعی اقدام کا نتیجہ یہ نکلا کہ اوزون کی تہہ آہستہ آہستہ بحال ہو رہی ہے اور آج یہ حد محفوظ دائرے میں شمار کی جاتی ہے۔ تاہم، محققین خبردار کرتے ہیں کہ یہ بحالی انتہائی سست رفتار ہے اور اگر فضائی آلودگی یا نئے کیمیکلز کا استعمال بڑھا تو اس نازک توازن کو دوبارہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
فضا میں موجود چھوٹے ذرات (ایروسول): دھند میں لپٹی ہوئی حد
دوسری حد فضا میں موجود چھوٹے ذرات یا ایروسول ہیں۔ یہ وہ باریک ذرات ہیں جو قدرتی طور پر آتش فشاں پھٹنے، سمندری پھوار یا پودوں سے خارج ہوتے ہیں، لیکن انسانوں کی جانب سے کوئلہ جلانے، صنعتی دھویں اور گاڑیوں کے ایندھن سے پیدا ہونے والے ذرات نے اس حد کو غیر متوازن کر دیا ہے۔ یہ ذرات نہ صرف انسانوں کے پھیپھڑوں کے لیے خطرناک ہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بارش کے پیٹرن کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ فی الحال یہ حد مجموعی طور پر محفوظ دائرے میں سمجھی جاتی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے کئی علاقوں میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اس حد پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ یہ دونوں حدیں صرف اس لیے بچی ہیں کیونکہ انسانوں نے ماضی میں ان کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے تھے۔ اوزون کی تہہ کی بحالی اس بات کی زندہ مثال ہے کہ اگر دنیا مل کر فیصلہ کرے تو تباہی کا رخ موڑا جا سکتا ہے۔ لیکن محققین کا انتباہ ہے کہ یہ دونوں حدیں کسی بھی وقت خطرے کے دائرے میں داخل ہو سکتی ہیں اگر آلودگی اور غیر ذمہ دارانہ انسانی سرگرمیاں اسی رفتار سے جاری رہیں۔
تحقیق کے مرکزی مصنف بورس ساکشیووسکی اور ان کے ساتھی محققین کا کہنا ہے کہ زمین کے ہر اس نظام پر دباؤ خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے جو پہلے ہی محفوظ حدود سے باہر ہو چکا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس غلطی کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے اور ہم بڑے پیمانے پر مستقل اور ناقابل واپسی تبدیلیوں کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ جنگلات، پودے اور زمین جو فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھتے تھے، اب شدید گرمی، خشک سالی اور ہولناک آگ کی وجہ سے خود کمزور ہو چکے ہیں اور کئی مقامات پر یہ نظام کاربن جذب کرنے کے بجائے الٹا خارج کرنے لگے ہیں۔ دنیا بھر میں رونما ہونے والی تباہ کن موسمی تبدیلیاں جیسے ریکارڈ توڑ گرمی کی لہریں، طویل خشک سالی، بے وقت اور شدید بارشیں اور تباہ کن سیلاب اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ زمین کا قدرتی توازن بگڑ چکا ہے۔
اگرچہ تحقیق کے نتائج انتہائی تاریک اور خوفناک ہیں، لیکن جوہن راک اسٹم سمیت دنیا کے صف اول کے ماحولیاتی سائنسدان اب بھی مانتے ہیں کہ ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انسانیت کے پاس آج بھی وہ تمام علم، ٹیکنالوجی اور صلاحیت موجود ہے جس کی مدد سے اس تباہی کا رخ موڑا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ پوری دنیا کو مل کر ایک غیر معمولی اور ہنگامی سطح پر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ اس سیارے کو مزید اجڑنے سے بچایا جا سکے۔



