مضحکہ خیز”چھتری”ڈرامہ،ایرانی میڈیا نےامن مذاکرات کاکریڈٹ قطر کودیدیا؟

​اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)​نور خان ایئر بیس ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں شدید بحث کا مرکز بن گیا ہے جہاں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کی پاکستان آمد کے موقع پر ایک غیر معمولی اور سنسنی خیز واقعہ پیش آیا ہے۔ ایرانی صدر، ان کی اہلیہ اور صاحبزادی کے استقبال کے لیے صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزراء ایئر بیس پر موجود تھے کہ شدید دھوپ کے باعث رنوے کی طرف جاتے ہوئے "چھتری کی جنگ” چھڑ گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عملے سے چھتری خود پکڑ کر آصف علی زرداری کے ساتھ شیئر کی، لیکن جب زرداری صاحب نے چھتری تھامنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو شہباز شریف نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور چھتری دینے سے انکار کر دیا، جس پر وفاقی وزراء بھی مسکرانے پر مجبور ہو گئے۔ حد تو یہ ہوئی کہ ایرانی صدر کے جہاز سے اترتے وقت بھی شہباز شریف نے چھتری ہاتھ سے نہ جانے دی، آصف علی زرداری دھوپ میں کھڑے رہے جبکہ وزیراعظم نے ایرانی صدر پر سایہ کیے رکھا۔ اس دلچسپ سفارتی ڈرامے کے ساتھ ہی ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "فارس نیوز” نے ایک انتہائی سنسنی خیز اور توہین آمیز دعویٰ کر کے پاک ایران تعلقات میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایرانی میڈیا نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کے ایران امریکہ ثالثی اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق مبینہ بیانات کو "خالص جہالت” اور جھوٹ قرار دیتے ہوئے سخت ترین الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ موجودہ مذاکراتی عمل میں پاکستان کا کوئی اہم کردار نہیں بلکہ قطر سب سے موثر ثالث ہے اور شہباز شریف اپنا نقش بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ یہ سنسنی خیز بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی صدر خود پاکستان میں موجود ہیں اور بیک ڈور ڈپلومیسی کے تحت اگلے 60 دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ورکنگ گروپس کے مذاکرات طے پا چکے ہیں جن کی مانیٹرنگ کمیٹی کو خود وزیراعظم پاکستان نے لیڈ کرنا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ تضاد ایران کی اندرونی سیاسی کھینچا تانی اور نیوز ایجنسیوں کے مابین شدید رفت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ معظم فخر کی اس سنسنی خیز اندرونی کہانی اور مکمل تجزیاتی رپورٹ کو دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے پورا وی لاگ لازمی دیکھیں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button