ایران امریکا تنازع مشکل یا آسان راستے سے حل ہو سکتا ہے، ٹرمپ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع مشکل راستے یا آسان راستے سے حل ہو سکتا ہے، جبکہ ایران کے حوالے سے انہیں ایک اہم فیصلہ کرنا ہے۔
وائٹ ہاؤس سے اوہائیو کے شہر وینڈالیا میں ریلی کے لیے روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا تیل کی قیمتیں کم کرنے میں کامیاب رہا ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی آ رہی ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکی اقدامات اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران شدید کمزور ہو چکا ہے اور اس نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے متعلق تقریباً تمام منصوبے ترک کر دیے ہیں۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، اگر امریکا کی جانب سے حملے دوبارہ شروع کیے گئے تو ایران پہلے سے زیادہ سخت جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ امریکا نے بڑے پیمانے پر حملے کیے تو جواب بھی پہلے سے زیادہ شدید ہوگا۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکی فوجی کارروائیوں کی حمایت کرنے والے ممالک کو بھی ممکنہ طور پر ہدف بنانے کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔
ادھر امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اپنا جوہری پروگرام رضاکارانہ طور پر ترک کرنے کا موقع موجود ہے، تاہم ایسا نہ کیا گیا تو امریکا اسے ایسا کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کے تمام مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران مسلسل جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کسی بھی کوشش کی تردید کرتا آیا ہے اور اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے۔



