ٹرمپ کے صدارتی ہیلی کاپٹر اور مسافر طیارہ خطرناک حد تک قریب آ گئے، امریکا نے تحقیقات شروع کر دیں

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرکاری ہیلی کاپٹر میرین ون اور ایک تجارتی مسافر طیارے کے مبینہ طور پر خطرناک حد تک قریب آنے کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز واشنگٹن کی فضائی حدود میں فضائی ٹریفک کنٹرول کے ساتھ مبہم مواصلات کے باعث میرین ون اور ایک کمرشل مسافر طیارہ ایک دوسرے سے ایک میل سے بھی کم فاصلے پر آ گئے، جس کے بعد واقعے نے توجہ حاصل کر لی۔

رپورٹس کے مطابق متعلقہ امریکی اداروں نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ فضائی ٹریفک کنٹرول کے نظام میں کہاں اور کس نوعیت کی غلطی ہوئی۔

دوسری جانب امریکی حکام نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ صدر ٹرمپ کی جان کو کسی بھی مرحلے پر خطرہ لاحق تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ میرین ون دنیا کے بہترین اور انتہائی تربیت یافتہ فوجی پائلٹس اڑاتے ہیں، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق پرواز کے دوران تمام حفاظتی اقدامات موجود تھے اور کسی لمحے بھی صدر کی سلامتی کو حقیقی خطرہ پیش نہیں آیا۔

امریکی حکام نے مزید کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق واقعہ فضائی رابطے میں ابہام کے باعث پیش آیا، تاہم اصل وجوہات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گی۔

ماہرین کے مطابق امریکی صدر کی فضائی نقل و حرکت کے دوران انتہائی سخت حفاظتی پروٹوکول اپنائے جاتے ہیں، جبکہ صدارتی ہیلی کاپٹر کی پروازوں کی مسلسل نگرانی بھی کی جاتی ہے۔

واقعے کے بعد امریکی فضائی حکام نے فضائی ٹریفک کنٹرول کے نظام اور حفاظتی طریقہ کار کا بھی ازسرِنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button