ایران پر ایٹمی حملے متوقع؟تہران میں ہنگامی ملاقاتیں،آرمی چیف کا دورہ ملتوی ہونے کی بڑی وجہ سامنے آ گئی!

لاہور(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)امریکااور ایران کے درمیان ممکنہ ہولناک جنگ کو روکنے کے لیے جاری پسِ پردہ سفارتکاری میں ایک انتہائی سنسنی خیز موڑ سامنے آیا ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق یہ افواہیں گرم تھیں کہ پاکستانی عسکری قیادت واشنگٹن اور تہران کے درمیان بریک تھرو اور جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کے لیے ایران روانہ ہو رہی ہےتاہم آرمی چیف کا یہ دورہ اچانک التوا کا شکار ہو گیا ہے۔
عسکری مبصرین کے مطابق دورے کے رکنے کی سب سے بڑی وجہ تہران میں مجتبیٰ خامنہ ای سے براہِ راست ملاقات کی حتمی یقین دہانی نہ ہونا ہے۔پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ ایران میں حتمی فیصلہ سازی کا اختیار عسکری قیادت اور رہبرِ اعلیٰ کے قریبی حلقوں کے پاس ہے، اس لیے جب تک اعلیٰ ترین سطح پر براہِ راست رابطہ نہیں ہوتا، کوئی بھی معاہدہ پائیدار نہیں ہو سکتا۔دوسری جانب وفاقی وزیر محسن نقوی تہران میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور انہوں نے ایرانی صدر اور اعلیٰ قیادت سے مسلسل تین اہم ملاقاتیں کی ہیں تاکہ اس تعطل کو دور کیا جا سکے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے تو اس ثالثی پر مثبت اشارے دیے تھے، مگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کا افزودہ یورینیم ہر حال میں حاصل کرنے کی ضد اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی کڑی شرائط نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ اسرائیل نے جنگ بندی کو ایران کی ایٹمی تنصیبات کی تباہی اور میزائل پروگرام کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے، جبکہ دوسری طرف ٹرمپ نے طیش میں آ کر پوری ایرانی تہذیب کو مٹانے جیسی ہولناک دھمکی دے ڈالی ہے جس سے یورپ میں امریکہ کے ایٹمی حملے کا خوف پھیل گیا ہے۔ اس وقت سعودی عرب، قطر اور امارات کی درخواست پر حج کی وجہ سے جنگ کا فیصلہ مؤخر ضرور ہوا ہے، مگر خطرہ برقرار ہے۔ اس ہولناک بحران، پسِ پردہ جاری عالمی شطرنج اور محسن نقوی کے مشن کے مستقبل کی تمام باریکیاں جاننے کے لیے معروف تجزیہ کار معظم فخر کا یہ وی لاگ مکمل دیکھیں۔




