پروڈکشن کی وجہ سے مقروض ہوگئی،قرضہ اترے گا تو کام پھر سے شروع کروں گی،ثانیہ سعید

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)تھیٹر، ٹیلی ویژن اور فلموں کی اداکارہ ثانیہ سعید کا کہنا ہے کہ لاکھوں فالوورز اچھے اداکار کا متبادل نہیں ہو سکتے، پروڈکشن کی وجہ سے مقروض ہوگئی ہوں، قرضہ اترے گا تو پروڈکشن کا کام پھر سے شروع کروں گی۔

سینئر اداکارہ نے کہا میرے نانا جیل میں ہوتے تو نانی گھر کا نظام چلاتی تھیں، میری والدہ کو بھی نانی نے پڑھایا، فلمیں بننا شروع ہوگئیں، لیکن لگائیں گے کہاں؟ ملک میں سنیما گھر تو موجود ہی نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا آج بھی کرائے کے گھر میں رہتی ہوں، شہزاد رائے بہت اچھا سماجی کام کر رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پروگرام: ہم پہ جو گزری، میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ثانیہ سعید کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں آزاد فلم سازی کو زیادہ سپورٹ دینے کی ضرورت ہے اور ایسے بیانیے سامنے لانے چاہئیں جو معاشرے کی حقیقی عکاسی کریں، نہ کہ صرف تجارتی کامیابی کے پیچھے بھاگیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سنیما کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کتنا متنوع اور سماجی طور پر متعلقہ مواد پیش کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد اور غیر روایتی فلمیں آج بھی کئی مشکلات کا شکار ہیں، خاص طور پر ڈسٹری بیوشن اور اسکرینز تک رسائی کے حوالے سے۔

ان کے مطابق اکثر اہم فلمیں مالی اور ادارہ جاتی سپورٹ نہ ہونے کے باعث محدود رہ جاتی ہیں۔ "فلموں کی پروڈکشن اور پروموشن کے روایتی طریقے ہر پروجیکٹ پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔”

انہوں نے کہا بہت سی اہم فلمیں ذاتی جذبے اور قربانی سے بنتی ہیں کیونکہ ڈسٹری بیوٹرز اور سنیما مالکان ان میں سرمایہ کاری نہیں کرتے۔ ثانیہ سعید کا کہنا تھا کہ شہروں کی شناخت صرف انفراسٹرکچر سے نہیں بلکہ وہاں کی ثقافت، فن اور کہانیوں سے بھی بنتی ہے۔

ان کے مطابق سنیما معاشرتی حقیقتوں کو ریکارڈ کرنے اور مکالمہ پیدا کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے، انہوں نے بتایا کہ تعلیم کے دوران شدید دباؤ اور پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم وقت کے ساتھ انہوں نے اپنی الگ شناخت بنانے کی کوشش کی۔

انڈسٹری میں عمر کے حوالے سے امتیاز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلہ سینئر اداکاروں کا نہیں بلکہ کہانیوں کے محدود ہونے کا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہر عمر کی کہانیاں اب اسکرین پر نہیں دکھائی جاتیں۔ ثانیہ کا کہنا تھا کہ جب انڈسٹری مکمل طور پر کمرشل ہو جاتی ہے تو اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات پر بھی بات کی اور کہا کہ آج کل کاسٹنگ میں فالوورز کو بھی اہمیت دی جاتی ہے، تاہم مقبولیت اداکاری کا متبادل نہیں ہو سکتی، کیمرہ بہت سچا اور سخت ذریعہ ہے، انہوں نے کہا کہ لاکھوں فالوورز اچھے اداکار کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

مزید خبریں

Back to top button