تھرکول ریلوے منصوبے پرکام تیز،75فیصد مکمل،دسمبر2026ءتک ٹرین چلانےکاہدف
تھرکول ریلوے منصوبہ 75 فیصد مکمل، دسمبر 2026 تک ٹرین چلانے کی تیاری

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھرکول کو قومی ریلوے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے لیے جاری 105 کلومیٹر طویل ریلوے لائن منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق منصوبے کا تقریباً 75 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ باقی کام دسمبر 2026ء تک مکمل کرکے اسی سال ٹرین چلانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق تھرکول ریلوے منصوبے کی منظوری 2019ء میں دی گئی تھی، جس کے بعد اس کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کی گئی۔ 75 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے اس منصوبے کے لیے جولائی 2024ء میں وفاقی حکومت نے ایف ڈبلیو او (FWO) کو نیو چھور سے کول سائیڈ اسلام کوٹ تک 105 کلومیٹر براڈ گیج ریلوے لائن تعمیر کرنے کا ٹھیکہ دیا۔ منصوبے کی لاگت وفاقی اور سندھ حکومتیں 50، 50 فیصد کے تناسب سے برداشت کر رہی ہیں۔ ریلوے لائن پر 7 سے 8 اسٹیشن، 57 پل اور بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے متعدد انڈر پاس بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں، جبکہ مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر زمین کی ہمواری، بندوں کی تعمیر، پلوں اور انڈر پاسز پر کام جاری ہے۔ریٹائرڈ اسٹیشن ماسٹروں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں پر مشتمل ایک وفد نے اپنی ذاتی خرچ پر نیو چھور سے کول سائیڈ اسلام کوٹ تک پوری ریلوے لائن کا دورہ کیا۔ وفد نے مختلف مقامات پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور منصوبے پر کام کرنے والے عملے سے ملاقات کرکے پیش رفت سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ وفد کے مطابق کئی مقامات پر جدید مشینری کے ذریعے ریت کے ٹیلے ہموار کیے جا رہے تھے، جبکہ دیگر مقامات پر مٹی اور ریت کو پانی دے کر مضبوط بنانے، بندوں کی تعمیر، پلوں کی تکمیل اور ریلوے ٹریک بچھانے کا کام جاری تھا۔ متعدد جگہوں پر سیمنٹ کے سلیپر، 120 پاؤنڈ وزنی ریل، بالسٹ پتھر اور دیگر ضروری ریلوے سامان بھی موجود تھا۔ منصوبے سے وابستہ ایک نگران افسر نے بتایا کہ منصوبے کا 75 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور باقی 25 فیصد کام دسمبر 2026ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔ ان کے مطابق تھرکول کی ترسیل کے لیے جدید انجن اور ویگنیں بھی بیرونِ ملک سے فراہم کی جا چکی ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ منصوبے میں ماحولیاتی تحفظ کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ ریت اڑنے سے روکنے کے لیے مقامی اقسام کے درخت لگائے جائیں گے، جبکہ پلوں اور بندوں کو بڑے پتھروں سے مضبوط بنایا جائے گا تاکہ بارشوں کے دوران ریلوے لائن محفوظ رہے۔ وفد میں سابق اسٹیشن ماسٹر نور محمد تھری، سابق اسٹیشن ماسٹر دسرت کمار، چھور اسٹیشن ماسٹر عبدالرحمان کنبھر، سیٹھ عبدالکریم اور صحافی خادم حسین دلوانی شامل تھے۔ وفد نے منصوبے کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اہم قومی منصوبہ مقررہ وقت پر مکمل ہونے کے بعد تھرکول کو ملک کے پاور پلانٹس تک آسانی سے پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گا اور توانائی کے شعبے کو مزید تقویت ملے گی۔اگر آپ چاہیں تو میں اسے ٹی وی نیوز اسکرپٹ یا اخباری لیڈ اسٹوری کے انداز میں بھی تیار کر سکتا ہوں۔



