اعضاکاٹنے کی لرزہ خیزدھمکیاں اورکروڑوں ڈالرکاتاوان،ڈی آئی جی آپریشنز کی پریس کانفرنس مچھلی منڈی بن گئی!

لاہور(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار کے قریبی رشتے دار رضا ڈار کی مبینہ ایما پر دو غیر ملکی دوشیزاؤں کے ہولناک اغوا اور کروڑوں ڈالر کے کرپٹو تنازعے نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ سنسنی خیز انکشافات کے مطابق ملزم رضا ڈار نے ان خواتین کے ذریعے کرپٹو کرنسی میں تقریباً 36 ملین ڈالر کی خطیر رقم لگا رکھی تھی، تاہم منافع نہ ملنے پر دباؤ میں آکر اس نے تاوان اور رقم کی واپسی کے لیے مبینہ طور پر خطرناک ترین اشتہاری مجرموں کی خدمات حاصل کیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق خوفناک موڑ اس وقت آیا جب زیر حراست مرکزی شوٹر وحید اور اس کے چیلوں نے تاوان کی وصولی کے لیے دوشیزاؤں کے اعضا کاٹنے اور قتل کرنے کی لرزہ خیز دھمکیاں دیں، جس پر اسپینش پولیس اور ڈچ سفارت خانے کو ہنگامی بنیادوں پر مداخلت کرنا پڑی۔ دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی دھماکہ خیز پریس کانفرنس صحافیوں کے تند و تیز سوالات اور شدید احتجاج کے باعث مچھلی منڈی بن گئی اور وہ پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ انتہائی حیرت انگیز طور پر جہاں پولیس خواتین کی لائیو ٹریکنگ کے ذریعے بازیابی کے جھوٹے دعوے کرتی رہی، وہیں سچائی یہ نکلی کہ مغویہ خواتین خود چلتی گاڑی سے کودیں، شور مچایا اور ایک مقامی دکان سے فون کر کے اپنی جان بچائی۔ اگرچہ متاثرہ خواتین کے عدالتی بیانات کی روشنی میں رضا ڈار کو زیادتی کے الزامات سے کلین چٹ مل گئی ہے، مگر شواہد مٹانے اور فرنزک نہ کرانے پر پنجاب پولیس کی تفتیش پر کئی سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ اس سنسنی خیز اور لرزہ خیز داستان کے تمام تر پوشیدہ حقائق اور پریس کانفرنس کا آنکھوں دیکھا حال جاننے کے لیے سینئر تجزیہ کار معظم فخر کا یہ وی لاگ آخر تک لازمی دیکھیں۔




