پانی کی وارہ بندی پر تصادم کیس: 23 روز بعد بھی گرفتاری نہ ہوئی، مقتول کے ورثاء کا انصاف اور تحفظ کا مطالبہ

ڈہرکی (رپورٹ: وجے کمار چاولا\جانوڈاٹ پی کے) ڈہرکی کے نواحی گاؤں غلام حسین لونڈ میں پانی کی وارہ بندی کے تنازع پر لونڈ برادری کے دو فریقین کے درمیان ہونے والے مسلح تصادم میں ایک شخص جاں بحق اور آٹھ سے زائد افراد زخمی ہونے کے واقعے کو 23 روز گزر گئے، تاہم متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ تاحال نامزد ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

مقتول غلام حسن لونڈ کے بیٹوں سجاد حسین اور شہباز حسن نے احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری انصاف اور جان و مال کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کھینجو تھانے کی پولیس انصاف فراہم کرنے کے بجائے مبینہ طور پر ملزمان کی پشت پناہی کر رہی ہے۔

ورثاء نے الزام عائد کیا کہ قتل کے مقدمے سے دستبردار نہ ہونے پر ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ بھی درج کیا گیا، جبکہ نامزد ملزمان کی جانب سے مبینہ طور پر آئے روز ان کے گھروں پر فائرنگ کرکے انہیں خوف و ہراس میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ رجب لونڈ، شہزادو لونڈ، شاہد لونڈ، امیرزادہ اور دیگر نامزد ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث اہلخانہ شدید خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

مقتول کے بیٹوں نے ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران سے مطالبہ کیا کہ قتل کیس میں نامزد تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، انہیں اور ان کے اہلخانہ کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے اور واقعے کی شفاف و غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے انصاف یقینی بنایا جائے۔

ورثاء کا کہنا تھا کہ اگر نامزد ملزمان کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

مزید خبریں

Back to top button