ڈہرکی:ماہی چوک میں ایتھنول فیکٹری کے قیام کیخلاف علاقہ مکینوں کا احتجاجی دھرنا، شٹر ڈاؤن ہڑتال

ڈہرکی(رپورٹ:وجے کمارچاولا )سندھ اور پنجاب کی سرحدی حدود ماہی چوک کے قریب مجوزہ ایتھنول فیکٹری کے قیام کے خلاف علاقہ مکینوں کی جانب سے شدید احتجاج فیکٹری کی مخالفت میں ماہی چوک نوازآباد اور دعوالا سمیت مختلف علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی ممتاز علی چانگ کی قیادت میں سینکڑوں افراد نے ماہی چوک پر بڑا دھرنا دیا ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی ممتاز علی چانگ کی قیادت میں سینکڑوں افراد نے ماہی چوک پر بڑا دھرنا دیا دھرنے میں سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنماؤں، آبادگاروں، تاجروں اور علاقہ مکینوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور ایتھنول فیکٹری کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے حکومت سے منصوبہ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا اس موقع پر ایم پی اے ممتاز علی چانگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماہی چوک سندھ اور پنجاب کی سرحد پر واقع ایک اہم علاقہ ہے جہاں ایتھنول فیکٹری کے قیام سے دونوں صوبوں کے سرحدی علاقوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے انہوں نے کہا کہ فیکٹری کے قیام سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ پانی کا معیار متاثر ہونے اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچنے کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں ممتاز علی چانگ کا کہنا تھا کہ ایتھنول فیکٹری سے خارج ہونے والا فضلہ اور کیمیائی مادے اگر پانی کے ذرائع میں شامل ہوئے تو علاقے کا پانی آلودہ اور زہریلا ہونے کا خدشہ ہے جس سے انسانوں اور جانوروں کی صحت متاثر ہو سکتی ہے انہوں نے کہا کہ آلودگی کے باعث مختلف بیماریاں پھیلنے کے ساتھ زرعی زمینیں بھی متاثر اور بنجر ہونے کا خطرہ ہے انہوں نے کہا کہ علاقے کے لوگ اپنی زمینوں، پانی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں اس لیے ایسا کوئی منصوبہ قبول نہیں کیا جائے گا جس سے مقامی آبادی یا ماحول کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو احتجاجی مظاہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ ایتھنول فیکٹری کی منظوری اور قیام کے معاملے کا شفاف ماحولیاتی جائزہ لیا جائے اور مقامی آبادی کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ ختم کیا جائے دھرنے کے دوران مظاہرین نے فیکٹری کے خلاف شدید نعرے بازی کی جبکہ احتجاجی رہنماؤں نے اعلان کیا کہ اگر ایتھنول فیکٹری کا منصوبہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button