جی ہاں، یہ میرا آخری ورلڈکپ تھا، آج مطمئن ضمیر کے ساتھ جا رہا ہوں: رونالڈو

ہیوسٹن(جانوڈاٹ پی کے)دُنیائے فٹ بال کے عظیم کھلاڑیوں میں سے ایک پرتگال کے فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو اور پرتگال کا ورلڈکپ جیتنے کا خواب پری کوارٹر فائنل میں اسپین کے ہاتھوں ایک صفر کی شکست سےچکنا چور ہوگیا۔
انجری ٹائم میں اسپین کے کھلاڑی میکائیل میرینو کےگول کے سبب رونالڈو کو میچ کے خاتمے پر آنسوؤں کے ساتھ میدان سے جانا پڑا۔
میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو میں رونالڈو کا کہنا تھا کہ مجھے افسوس ہےکہ میرا ورلڈکپ اس طرح ختم ہوا، میں نے اپنی پوری جان لگا دی، اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کی، اور آج مطمئن ضمیر کے ساتھ جا رہا ہوں، فٹبال بھی زندگی کی طرح ہے، جہاں کبھی کامیابی ملتی ہے اور کبھی شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایک سوال پر رونالڈو نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جی ہاں، یہ میرا آخری ورلڈکپ تھا، اب میں اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزاروں گا اور سکون سے اپنے مستقبل کے بارے میں غور کروں گا، میں کوئی جلد بازی میں فیصلہ نہیں کروں گا۔
41 سالہ رونالڈو نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ پرتگال کی قومی ٹیم کے لیے بھی ان کا آخری میچ تھا یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کوئی ایسا ذاتی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے جو ٹیم کی مہم پر حاوی ہو جائے، میں جذبات کی رو میں بہہ کر فیصلے نہیں کرتا۔
رونالڈو، جنہوں نے پرتگال کو 2016 کی یورپی چیمپئن شپ (یوروکپ) اور 2019 اور 2025 کی یوئیفا نیشنز لیگ کے ٹائٹلز جتوانے میں اہم کردار ادا کیا، نےکہا کہ انہیں قومی ٹیم کے لیے اپنی خدمات پر فخر ہے، میں نے قومی ٹیم کے ساتھ 23 برس تک فٹبال کھیلی اور پرتگال کے لیے تین بڑے اعزازات جیتے۔
انہوں نےکہا کہ قومی ٹیم کی تاریخ کا سب سے بڑا اعزاز 2016 کی یورپی چیمپئن شپ ہے، سچ کہوں تو میرے نزدیک اس کی اہمیت ورلڈکپ جیتنے کے برابر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میری زندگی میں کسی چیز کی کمی نہیں، خدا نے مجھے میری توقعات سے بھی بڑھ کر عطا کیا ہے، عمر انسان کو پختگی اور تجربہ دیتی ہے، میں ان تنقیدوں کا بھی شکر گزار ہوں جو مجھے برداشت کرنا پڑیں، کیونکہ اس سے انسان مضبوط بنتا ہے،گزشتہ 23 برسوں سے لوگ مجھے گرانے اور تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، لیکن میں اس پر زیادہ توجہ نہیں دیتا، یہ سب اس کھیل کا حصہ ہے۔پرتگال کے لوگ مجھ پر ہمیشہ اعتماد کرتے ہیں، انہوں نے کبھی میرا ساتھ نہیں چھوڑا اور ہمیشہ میرے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔
خیال رہےکہ کرسٹیانو رونالڈو سے پہلے پرتگال نے ایک بھی بڑا ٹائٹل نہیں جیتا تھا۔
اپنے 23 سالہ کریئر میں اب تک اپنے ملک اور کلبز کیلئے مجموعی طور پر 976 گول کرنے والے، 5 مرتبہ کے بیلن ڈی اور ، 5 مرتبہ کے چیمپئنز لیگ اور ایک مرتبہ یوروفٹ بال چیمپئن شپ جیتنے والے رونالڈو کی انعامات کی الماری میں صرف ایک ہی ٹرافی کی کمی رہ گئی، رونالڈو نے 6 ورلڈ کپ میں شرکت کی جس میں پرتگال کی ٹیم ٹائٹل حاصل کرنے کے سب سے قریب 2006 کے ایڈیشن میں پہنچی تھی جب اُس نے سیمی فائنل کھیلا تھا، یہ رونالڈو کا پہلا ورلڈ کپ بھی تھا۔
انہیں ان عظیم ترین فٹبالرز میں شمار کیا جائےگا جو شاندار کریئر کے باوجود ورلڈکپ ٹرافی جیتنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
اگر رونالڈو اپنا بین الاقوامی کریئر جاری رکھتے ہیں تو اگلا بڑا ٹورنامنٹ 2028 کی یورپی چیمپئن شپ ہوگا، اس وقت ان کی عمر 43 برس ہوگی۔



