بدین کی یونین کونسلوں کے مالی ریکارڈ اور ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت پر سوالیہ نشان

ٹنڈوباگو(رپورٹ:/جانو ڈاٹ پی کے)ضلع بدین کی یونین کونسلوں میں ترقیاتی فنڈز کے استعمال، مالی ریکارڈ اور ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ شہریوں، سماجی حلقوں اور مختلف دیہی علاقوں کے رہائشیوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع کی تمام یونین کونسلوں کے مالی معاملات، ترقیاتی فنڈز اور آڈٹ ریکارڈ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ عوام کے سامنے اصل حقائق آسکیں۔
ذرائع کے مطابق ضلع کی بیشتر یونین کونسلیں عملی طور پر غیر فعال دکھائی دیتی ہیں۔ متعدد دیہات میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی، نکاسی آب، گلیوں اور سڑکوں کی تعمیر، صفائی ستھرائی، اسٹریٹ لائٹس اور دیگر بنیادی سہولتوں کی صورتحال انتہائی ابتر بتائی جاتی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ عوام کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں، تاہم سرکاری ریکارڈ میں ترقیاتی کاموں پر لاکھوں روپے خرچ ہونے کا اندراج موجود ہونے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض یونین کونسلوں میں صرف محدود نوعیت کے ترقیاتی کام، مثلاً کچی باؤنڈری وال یا چند دیگر چھوٹے منصوبے مکمل کر کے بڑے پیمانے پر اخراجات ظاہر کیے جاتے ہیں۔ مزید الزام ہے کہ ہر ماہ ہینڈ پمپوں کی تنصیب، کچی باؤنڈری وال، مختلف ترقیاتی منصوبوں اور بعض اوقات غریب خاندانوں کی مالی امداد کے نام پر ووچر تیار کر کے سرکاری رقوم نکلوائی جاتی ہیں۔ ان الزامات کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ ترقیاتی بل اور ووچر لوکل آڈٹ فنڈ ڈپارٹمنٹ کو پیش کیے جاتے ہیں جہاں ضابطہ کار کے مطابق آڈٹ کے بعد رپورٹ جاری کی جاتی ہے۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر سندھ بینک کو ادائیگی کے لیے اجازت نامہ ارسال کیا جاتا ہے، جس کے بعد متعلقہ یونین کونسلوں کی تنخواہوں اور دیگر ادائیگیوں کے چیک جاری کیے جاتے ہیں۔ عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس پورے نظام کا آزادانہ فرانزک آڈٹ کیا جائے تاکہ مالی بے ضابطگیوں سے متعلق سامنے آنے والے دعووں کی حقیقت واضح ہو سکے۔
شہریوں اور سماجی تنظیموں نے حکومت سندھ، محکمہ لوکل گورنمنٹ، آڈیٹر جنرل، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بدین کی تمام یونین کونسلوں کے ترقیاتی فنڈز، بلوں، ووچرز، آڈٹ ریکارڈ اور بینک ادائیگیوں کی مکمل جانچ پڑتال کرائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں کسی بھی قسم کی مالی بے ضابطگی یا بدعنوانی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے اور عوامی فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے۔



