گوجرانوالہ میں الیکٹرو بس سروس کا آغاز، ماس ٹرانزٹ منصوبے کی مارچ ڈیڈ لائن مقرر

گوجرانوالہ (جانو ڈاٹ پی کے) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ میں ابتدائی طور پر دو الیکٹرو بس روٹس کا افتتاح کردیا، جبکہ گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے مارچ 2027 کی ڈیڈ لائن مقرر کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ آمد کے دوران گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ کوریڈور پراجیکٹ کا جائزہ لیا اور انڈر پاس، ٹنل اور سڑک کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہیں منصوبے کی پیش رفت اور شہر میں جاری تعمیراتی کاموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ عوام کو درپیش مشکلات کا اندازہ ہے، اس لیے ماس ٹرانزٹ منصوبے کی تکمیل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ گوجرانوالہ کا ماس ٹرانزٹ منصوبہ تقریباً 31.5 کلومیٹر طویل ہے اور اس میں 25 اسٹیشنز سمیت زیرِ زمین حصے اور انڈر پاسز شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ نے گوجرانوالہ انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی سائٹ کا بھی معائنہ کیا اور تعمیراتی کام جلد شروع کرنے کی ہدایت کی۔ منصوبے کے تحت 268 بستروں پر مشتمل نواز شریف۔مریم نواز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی قائم کیا جائے گا، جس کے لیے 50 کنال اراضی مختص کی گئی ہے۔
مجوزہ کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ میں ایمرجنسی، سی سی یو، آئی سی یو، جدید آپریشن تھیٹرز، انجیوگرافی کیتھ لیبز، سی ٹی اسکین، الٹراساؤنڈ اور گاما کیمرہ سمیت جدید طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ منصوبے میں 3 ٹیسلا ایم آر آئی، الٹرا فاسٹ سی ٹی اسکینر، دو سنگل پلین اور ایک بائی پلین انجیوگرافی مشین، چار ماڈیولر آپریشن تھیٹرز اور چار ہارٹ لنگ مشینیں بھی شامل ہوں گی۔
گوجرانوالہ میں ابتدائی طور پر دو الیکٹرو بس روٹس پر سروس شروع کی گئی ہے۔ ایک روٹ چن دا قلعہ سے لوہیانوالہ جبکہ دوسرا کھیالی سے جنڈیالہ نندی پور تک ہوگا۔ تعمیراتی منصوبے مکمل ہونے کے بعد شہر میں مجموعی طور پر 74 الیکٹرو بسیں چلانے کا منصوبہ ہے۔
وزیراعلیٰ کے دورے کے دوران ایک دلچسپ موقع اس وقت آیا جب انہوں نے سڑک پر کمسن طلبہ کو دیکھا تو گاڑی رکوا لی۔ مریم نواز شریف نے ننھے اسد اللہ اور اس کے ساتھی سے اظہار شفقت کیا اور بچوں کو سوئیٹس، پھل اور انعامات بھی دیے۔
پنجاب حکومت پہلے ہی گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ منصوبے کے ڈیزائن کی منظوری دے چکی ہے، جس میں شہر کے مختلف علاقوں کو فیڈر بسوں کے ذریعے مرکزی ٹرانزٹ سسٹم سے منسلک کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔



