پاکستان میں ایک کروڑ کے قریب بچے اسکول جانے کے بجائے کام کر رہے ہیں، یونیسیف

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ بچے تعلیم حاصل کرنے کی بجائے کام کر رہے ہیں۔
یونیسیف اور انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں 80 لاکھ سے زائد بچے چائلڈ لیبر جبکہ 60 لاکھ سے زائد بچے خطرناک کام کرنے پر مجبور ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غربت چائلڈ لیبر کی سب سے بڑی وجہ ہے اور اس کا زیادہ تر اثر غریب گھرانوں اور کم تعلیم یافتہ والدین کے بچوں پر پڑتا ہے۔ لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکے نمایاں طور پر زیادہ کام کرتے ہیں جن میں خطرناک کام بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بچوں کی بڑی تعداد گھریلو سطح پر کام کرتی ہے، جن میں خاندانی کھیتوں، ورکشاپس اور گھروں میں ہونے والا کام شامل ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ چائلڈ لیبر بچوں کی صحت اور فلاح و بہبود پر شدید منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ مزدوری کرنے والے بچے زیادہ تر اسکول نہیں جاتے، طویل اوقات تک کام کرتے ہیں اور زخمی ہونے، بیماری، تھکن اور ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔



