نیتن یاہو کا بیرونِ ملک اسرائیلی فوج پر الزام لگانے والوں کی شہریت منسوخ کرنے کیلئے قانون لانے کا اعلان

تل ابیب (ویب ڈیسک)اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بیرونِ ملک اسرائیلی فوج کے خلاف مبینہ طور پر بہتان تراشی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کے لیے دو بل پیش کرنے کا اعلان کردیا۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ پہلے بل کے تحت ایسے افراد کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کا اختیار متعارف کرایا جائے گا، جبکہ دوسرے بل میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں ان کے خلاف ہرجانے اور قانونی کارروائی کی سزا سخت کرنے کی تجویز ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائر گولن، سابق فوجی ایڈووکیٹ جنرل یفت تومر-یروشلمی اور حالیہ دستاویزی فلم "NAZA” کے فلم سازوں یوول ابراہم اور ریچل شور کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ صہیونی جماعتیں ان اقدامات کی حمایت کریں گی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فلم NAZA میں غزہ میں شہریوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق الزامات پر اسرائیل میں شدید بحث جاری ہے۔ اسرائیلی فوج نے فلم کے پروموشنل مواد میں کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم ابھی مکمل طور پر فوج کو دکھائی نہیں گئی۔
دوسری جانب اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے فلم سازوں کی شہریت منسوخ کرنے کی تجویز پر کہا ہے کہ اس کا کوئی امکان نہیں۔ اسرائیلی قانون کے تحت شہریت منسوخی بعض مخصوص حالات میں ممکن ہے، تاہم اس کے لیے قانونی مراحل طے کرنا ضروری ہیں۔
دریں اثنا، چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے محسوس کیا ہے کہ فلم کے خلاف جارحانہ ردعمل نے خود اس معاملے کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ رپورٹ میں بعض اسرائیلی سفارت کاروں کے حوالے سے کہا گیا کہ حکومت کے اندر فلم کے معاملے پر مختلف نقطہ نظر موجود ہیں۔



