بی ایل اے کا مکروہ چہرہ بے نقاب، لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث

کوئٹہ(جانوڈاٹ پی کے\ویب ڈیسک) کالعدم بی ایل اے کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو گیا، لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشت گردی میں ملوث نکلے۔

بلوچستان میں لاپتا افراد کے مسئلے پر جاری بحث کے دوران سیکیورٹی ذرائع اور حکومتی حکام کی جانب سے بار بار یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ لاپتا افراد کی فہرستوں میں شامل بعض افراد بعد ازاں دہشتگرد تنظیموں کے ارکان یا سہولت کاروں کے طور پر سامنے آئے ہیں، حالیہ کچھ سالوں میں سامنے آنے والے متعدد واقعات نے اس بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق جولائی 2025 میں قلات میں ایک آپریشن کے دوران مارا جانے والا صہیب لانگو فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشتگرد تھا، جس کا نام پہلے لاپتا افراد کی فہرست میں شامل کیا جاتا رہا، صہیب لانگو کا کیس ان مثالوں میں شامل ہے جنہیں ریاستی ادارے لاپتا افراد کے بیانیے کے غلط استعمال کی مثال قرار دیتے ہیں۔

کریم جان، جو 2023 میں گوادر حملے میں مارا گیا، اور عبدالودود، جس کا نام نیول بیس حملے کے تناظر میں سامنے آیا، بھی ان افراد میں شامل تھے جنہیں بعض حلقوں کی جانب سے لاپتا افراد کے بیانیے سے جوڑا جاتا رہا، سکیورٹی اداروں کا مؤقف ہے کہ ایسے کیسز اس دعوے کو تقویت دیتے ہیں کہ عسکریت پسند تنظیمیں بعض نوجوانوں کی گمشدگی کو سیاسی اور پروپیگنڈا مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

برطانوی اخبار گارڈین کی رواں سال شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بلوچستان کے ایک نوجوان حسن کی کہانی بیان کی گئی، جو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواہش مند تھا، حسن اچانک گھر سے غائب ہو گیا اور بعد میں اپنے والد کو مختصر فون کال میں بتایا کہ وہ پہاڑوں کا رخ کر رہا ہے، جسے اس کے خاندان نے عسکریت پسند تنظیم میں شمولیت کا اشارہ قرار دیا۔

چند ماہ قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اسی تناظر میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ لاپتا افراد کی فہرستوں میں شامل بہت سے افراد دراصل دہشتگرد تنظیموں کے ارکان یا ایجنٹ ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب یہ افراد سکیورٹی کارروائیوں میں مارے جاتے ہیں تو بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نام لاپتا افراد کی فہرستوں میں بھی شامل تھے، بعض افراد ملک سے باہر مقیم ہیں جبکہ ان کے اہل خانہ انہیں لاپتا ظاہر کرتے ہیں اور اس معاملے کو انسانی حقوق کے بیانیے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں لاپتا افراد کا مسئلہ دو متوازی بیانیوں کے درمیان گھرا ہوا ہے، ایک جانب ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ بعض لاپتا افراد بعد میں دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ وابستہ پائے گئے، جبکہ دوسری جانب متاثرہ خاندان اور انسانی حقوق کے کارکن لاپتا افراد کے ہزاروں مقدمات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حساس مسئلے کا مستقل حل صرف حقائق پر مبنی تحقیقات، عدالتی نگرانی اور تمام فریقوں کے مؤقف کو سامنے لانے سے ہی ممکن ہے۔

مزید خبریں

Back to top button