بدین،ٹنڈو باگو روڈ پر وہنائی پل کی مرمت میں تاخیر،شہریوں کا سید سمن سرکارؒکے عرس سے قبل کام مکمل کرنے کا مطالبہ

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے)وھنائی پل کی مرمت میں تاخیر، سید سمن سرکارؒ کے عرس پر ٹریفک کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ، فوری اقدامات کا مطالبہ۔ ٹنڈو باگو، بدین روڈ پر واقع وہنائی پل کی مرمت میں تاخیر نے شہریوں اور مسافروں کے لیے مشکلات اور حادثات کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ سید سمن سرکارؒ کے سالانہ عرس و میلے کی آمد کے پیش نظر بدین، پنگریو اور ٹنڈو باگو کے درمیان آمدورفت میں اضافے کا امکان ہے، تاہم پل کی خستہ حالی اور مرمتی کام کی سست رفتاری کے باعث زائرین، مسافروں اور مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پنگریو کے سماجی رہنما وفا اعجاز احمد میمن نے پریس کلب پنگریو میں احتجاج کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہنائی پل کی مرمت ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرکے شہریوں کو ممکنہ حادثات اور سفری پریشانیوں سے بچایا جائے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفا اعجاز احمد میمن نے کہا کہ وہنائی کے مقام پر نہر کا پل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اس کی مرمت کا کام جاری ہونے کے باوجود تاخیر کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق عرس و میلے کے موقع پر درگاہ سید سمن سرکارؒ پر ملک کے مختلف علاقوں سے عقیدت مندوں اور زائرین کی بڑی تعداد آمدورفت کرے گی، جس کے باعث بدین، پنگریو اور ٹنڈو باگو روڈ پر ٹریفک کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ایسی صورت حال میں پل کی مرمت بروقت مکمل نہ ہونا مسافروں کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔وفا اعجاز احمد میمن نے بتایا کہ مرمتی کام میں تاخیر کے دوران چند روز قبل پل سے گزرنے والا ایک نوجوان تاجر موٹر سائیکل سمیت نہر میں گر کر جاں بحق ہوگیا تھا، جس کی لاش دو روز بعد مل سکی۔ ان کے بقول یہ واقعہ پل پر حفاظتی انتظامات اور مرمتی کام کی بروقت تکمیل کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جبکہ مزید تاخیر سے کسی اور المناک حادثے کا خدشہ نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔سماجی رہنما نے متعلقہ محکمہ اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ عرس و میلے کے آغاز سے قبل وہنائی پل کی مرمت مکمل کی جائے، کام کی رفتار تیز کرنے کے ساتھ موقع پر مؤثر حفاظتی انتظامات کیے جائیں اور ٹریفک کی محفوظ روانی یقینی بنائی جائے، تاکہ زائرین، مسافروں اور مقامی شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے اور کسی ممکنہ حادثے سے بچنے کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button