بدین میں بدامنی اور منشیات کے خلاف تحریک تیز، سومرو برادری کا 7 اگست کو تاریخی احتجاج کا اعلان

بدین (رپورٹ: مرتضیٰ میمن / جانو ڈاٹ پی کے) بدین میں بڑھتی ہوئی بدامنی، چوری کی وارداتوں اور منشیات فروشی کے خلاف سومرو برادری اور شہریوں نے بدین پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے 7 اگست کو بڑے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کر دیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سومرو برادری کے معززین نے کہا کہ بدین میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، روزانہ ہونے والی چوریوں اور منشیات فروشی کے خلاف دس روز قبل بھی ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی تھی، جس میں سومرو برادری سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل برادری کے وفد نے ایس ایس پی بدین سے ملاقات کر کے شہر میں بڑھتی ہوئی بدامنی، منشیات فروشی اور چوری کی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کے مطابق ایس ایس پی نے اس موقع پر یقین دہانی کرائی تھی کہ پولیس ان جرائم کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے اور مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے، تاہم برادری کا مؤقف ہے کہ ان یقین دہانیوں کے باوجود صورتحال میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی۔
سومرو برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ بدین میں منشیات فروشی اور جرائم پر مؤثر قابو نہ پانے کے باعث عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، اسی لیے 7 اگست کو ایک بار پھر بھرپور احتجاجی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس احتجاج میں شہر کی مختلف برادریاں، وکلاء، ڈاکٹرز، تاجر تنظیمیں اور دیگر شہری بھی بھرپور شرکت کریں گے۔
پریس کانفرنس کے دوران مقررین نے کہا کہ بدین اس وقت منشیات کا گڑھ بنتا جا رہا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان نوجوان نسل کو پہنچ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام روزانہ کی بنیاد پر چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم سے پریشان ہیں، جبکہ پولیس مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر انتظامیہ اور پولیس نے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دی ہوتیں تو انہیں سڑکوں پر آنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ان کے مطابق جب تک شہریوں کے جائز مطالبات پورے نہیں کیے جاتے اور امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہوتی، احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔
پریس کانفرنس میں منان سومرو، ڈاکٹر عبدالرزاق سومرو، عمران سومرو سمیت سومرو برادری کے رہنماؤں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔



