سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں گرفتار نہیں کیا گیا، عطا تارڈ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں اور انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی حیثیت معطل ہو چکی ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔

پروگرام ’’ٹونائٹ ود ثمر عباس‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ بعض افراد کے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ روابط کے شواہد موجود ہیں۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی نے اپنے دوروں کے دوران مختلف مقامات پر جا کر دہشت گردوں سے اپنے لوگوں کا خیال رکھنے کی بات کی، جس سے لوگوں کی جانیں خطرے میں پڑنے کا خدشہ پیدا ہوا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے سہیل آفریدی پر صوبے میں دہشت گردی روکنے میں ناکامی کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن سے شہریوں کی سلامتی متاثر ہو۔

عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کا گورنر ہاؤس کو آگ لگانے اور وہاں توڑ پھوڑ کرنے کا منصوبہ تھا، تاہم ان کے بقول اس مقصد کے لیے لوگ باہر نہیں نکلے۔

انہوں نے شفیع جان کے حوالے سے بھی کہا کہ وہ چلے گئے ہیں اور لانگ مارچ کو آگے بڑھانے والا کوئی نہیں رہا۔ وفاقی وزیر نے سہیل آفریدی کی سیاسی حیثیت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے میں گھومتے گھومتے گم ہو گئے ہیں۔

عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ان ہاؤس تبدیلی کا کوئی معاملہ زیر غور نہیں، جبکہ صوبے میں نیا انتظامی سیٹ اپ چلانے کے حوالے سے بھی انہوں نے گفتگو کی۔ انہوں نے سہیل آفریدی کی واپسی کے امکان کو مسترد کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس منگل کو بلایا جائے گا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے معاملے پر سنجیدہ نہیں تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ 9 مئی کے مقدمات میں مفرور افراد کو گرفتار کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔

مزید خبریں

Back to top button