حکومت کے ساتھ مذاکرات محض دکھاوا تھے، گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا تھا، اسد قیصر

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اسد قیصر نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کو محض دکھاوا قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ بہت پہلے کیا جاچکا تھا۔
ایک انٹرویو کے دوران اسد قیصر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کا عمل سنجیدہ نہیں تھا بلکہ یہ صرف دکھاوے کے لیے کیا گیا۔ ان کے مطابق گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق فیصلے پہلے ہی کیے جاچکے تھے۔
پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ لانگ مارچ سے متعلق حقائق جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دینے پر غور کیا جارہا ہے، تاکہ مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات اور متعلقہ معاملات کا جائزہ لیا جاسکے۔
اسد قیصر نے پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سلمان اکرم راجا نے اجلاس میں سہیل آفریدی کو لانگ مارچ کی ناکامی کا ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متعدد باتوں میں حقیقت نہیں ہوتی، اس لیے ان پر بلا تحقیق یقین نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور بھی کور کمیٹی کے اجلاس میں موجود تھے۔
اسد قیصر کے بیان کے بعد خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر سیاسی بحث ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔



