آل سندھ لوئراسٹاف ٹھٹھہ کی کال پرچھوٹے ملازمین سے ناروا سلوک پر ڈی سی چوک مکلی سے احتجاجی ریلی نکالی گئی

ٹھٹھہ(رپورٹ:جاوید لطیف میمن/جانوڈاٹ پی کے)آل سندھ لوئر اسٹاف ضلع ٹھٹہ کی کال پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پرائمری نور سرائی کے مبینہ طور پر چھوٹے ملازمین سے ناروا سلوک، پروموشن اور سینیارٹی لسٹ روکنے، اور سال 2007 کے ملازمین کے ڈفرنس بلز پر دستخط نہ کرنے کے خلاف ملازمین نے ڈی سی چوک مکلی سے احتجاجی ریلی نکال کر شدید نعرے بازی کی۔
مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے، جن پر "ڈی ای او پرائمری کو ہٹایا جائے”، "لوئر اسٹاف کے جائز مسائل حل کیے جائیں” اور "چھوٹے ملازمین کے ساتھ ناانصافیاں بند کی جائیں” جیسے نعرے درج تھے۔
ریلی کے بعد مظاہرین نے ڈی ای او پرائمری آفس کے سامنے دھرنا دیا، جہاں تنظیمی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ لوئر اسٹاف کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا فوری ازالہ کیا جائے، سینیارٹی لسٹ بلا تاخیر جاری کی جائے، پروموشن کے معاملات نمٹائے جائیں اور سال 2007 کے ملازمین کے ڈفرنس بل جلد منظور کر کے ادا کیے جائیں۔
اس موقع پر سندھ کے صوبائی وزیر اور ایم پی اے سید ریاض شاہ شیرازی نے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے اپنے سیکریٹری ادا حنیف میمن کو دھرنے کے مقام پر بھیجا۔ ادا حنیف میمن نے احتجاج کرنے والوں کا فون پر سید ریاض شاہ شیرازی سے رابطہ کرایا، جس کے دوران صوبائی وزیر نے یقین دلایا کہ دو دن کے اندر سینیارٹی لسٹ سمیت لوئر اسٹاف کے تمام جائز مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
اس یقین دہانی کے بعد احتجاج کرنے والوں نے اپنا دھرنا عارضی طور پر ختم کر دیا، جبکہ رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر دی گئی مدت کے اندر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو 1 اگست سے ضلع ٹھٹہ کے تمام تعلیمی اداروں میں تالا بندی اور سخت احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔



