مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا نیا اثر، افریقہ میں ڈیزل بحران کے باعث ایشیا سے سپلائی ریکارڈ سطح پر پہنچنے کا امکان

لندن (ویب ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے بحری خطرات نے افریقی ممالک کو ڈیزل کے متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کردیا، جس کے نتیجے میں ایشیا سے افریقہ کو ڈیزل کی ترسیل رواں ماہ ساڑھے چار سال کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کا امکان ہے۔

رائٹرز کے مطابق شپ ٹریکرز اور تجارتی ذرائع کے اعدادوشمار کے تحت بھارت سمیت ایشیائی ممالک اگست میں افریقہ کو 1.8 سے 2 ملین میٹرک ٹن ڈیزل فراہم کرسکتے ہیں، جو تقریباً 13.4 سے 14.9 ملین بیرل کے برابر ہے۔

ایشیا سے افریقہ ڈیزل کی سپلائی میں اضافے کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ سے برآمدات میں نمایاں کمی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ نے خطے سے توانائی کی ترسیل متاثر کی ہے جبکہ بحیرہ احمر میں بھی بحری سلامتی کے خدشات برقرار ہیں۔

ایران سے منسلک یمنی حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کی بحری نقل و حرکت کو نشانہ بنانے اور سعودی آرامکو کی جازان ریفائنری پر حملے کے بعد سعودی عرب سے افریقہ کو ڈیزل کی برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق اگست میں مشرقِ وسطیٰ سے افریقہ کو ڈیزل کی برآمدات صرف 600 سے 800 ہزار ٹن رہنے کا امکان ہے، جو تقریباً نو برس کی کم ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔

تجارتی ذرائع کے مطابق آبنائے باب المندب اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کو لاحق مسلسل خطرات نے مشرقِ وسطیٰ سے افریقہ کو ڈیزل کی ترسیل محدود کردی ہے۔

گزشتہ سال افریقہ کی ڈیزل درآمدات کا تقریباً 50 فیصد مشرقِ وسطیٰ سے آتا تھا، جس میں سعودی عرب کا حصہ تقریباً 40 فیصد تھا۔

سعودی عرب میں بعض ریفائنری تنصیبات، خصوصاً جازان میں آپریشنز میں کمی نے بھی ڈیزل کی برآمدی گنجائش محدود کردی ہے۔

دوسری جانب صورتحال نے ایشیائی ریفائنریوں کے لیے افریقی مارکیٹ میں اپنی سپلائی بڑھانے کا موقع پیدا کردیا ہے۔ تجارتی اعدادوشمار کے مطابق ایشیا سے مغرب کی جانب ڈیزل برآمد کرنے کا منافع بخش فرق 100 ڈالر فی ٹن سے زائد ہے، جس کے باعث افریقہ کو ڈیزل برآمد کرنا ایشیائی تاجروں کے لیے مزید پرکشش ہوگیا ہے۔

یوں مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور اہم بحری راستوں کو لاحق خطرات نے عالمی ڈیزل تجارت کا رخ تبدیل کرتے ہوئے ایشیا کو افریقی مارکیٹ کے لیے ایک اہم متبادل سپلائر بنا دیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button