قندھار میں طالبان کے اعلیٰ انٹیلی جنس افسر کی ہلاکت کا دعویٰ، نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ کا بڑا اعلان

کابل (ویب ڈیسک) نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے 30 اگست 2026 کو قندھار کے آئنو مینا اسکوائر کے قریب ایک منصوبہ بند کارروائی کے دوران طالبان انٹیلی جنس کے فرسٹ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ملا تاج میر جواد کو ہلاک کردیا۔
نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ کے مطابق ملا تاج میر جواد قندھار میں طالبان انٹیلی جنس کے اہم عہدیدار تھے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کارروائی طالبان کے روایتی مضبوط گڑھ قندھار میں کی گئی، جو طالبان کے سیاسی و انتظامی اثر و رسوخ کا بھی اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
فرنٹ نے دعویٰ کیا کہ اعلیٰ سطح کے انٹیلی جنس عہدیدار کی قندھار میں ہلاکت طالبان کے سیکیورٹی ڈھانچے میں موجود کمزوریوں کو ظاہر کرتی ہے۔ تنظیم کے مطابق کارروائی طالبان کے ان عہدیداروں اور کمانڈروں کے لیے بھی پیغام ہے جو اس کے بقول افغان عوام کے خلاف جبر، تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔
نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے کہا کہ یہ کارروائی افغانستان بھر میں طالبان حکومت کے خلاف جاری مزاحمتی سرگرمیوں کا حصہ ہے اور مزاحمتی گروہوں کی کارروائیوں کا دائرہ اب دور دراز علاقوں سے نکل کر طالبان کے اہم مراکز اور اعلیٰ عہدیداروں تک پہنچ رہا ہے۔
تنظیم نے طالبان حکومت کی جانب سے اقتدار پر اجارہ داری ختم کرکے ایک جامع، نمائندہ اور جواب دہ سیاسی نظام قائم کرنے کے مطالبے کا بھی اعادہ کیا۔
تاہم ملا تاج میر جواد کی ہلاکت سے متعلق نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ کا دعویٰ تاحال آزاد ذرائع سے تصدیق طلب ہے۔



