طالبان کا امریکا کو بڑا پیغام، کابل میں سفارتخانہ کھولنے اور افغانستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

کابل (ویب ڈیسک) افغانستان کی طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے امریکا سے کابل میں سفارتخانہ دوبارہ کھولنے اور افغانستان میں سرمایہ کاری کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

دی نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں امیر خان متقی نے کہا کہ طالبان جنگ کے باب کو ختم سمجھتے ہیں اور اب امریکا سمیت دیگر ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور مثبت روابط پر مبنی نئے تعلقات چاہتے ہیں۔

افغان وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی افغان اپنی سرزمین پر کسی دوسرے ملک کی فوجی موجودگی نہیں چاہتا اور نہ ہی اسے برداشت کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان انتظامیہ امریکا میں دوبارہ سفارتی مشن کھولنے کی خواہاں ہے جبکہ یورپی ممالک کے ساتھ افغان تارکین وطن سے متعلق معاہدوں پر بھی بات چیت جاری ہے۔

امیر خان متقی نے کہا کہ امریکا سمیت کوئی بھی ملک افغانستان میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے کیونکہ طالبان حکومت کو غیر ملکی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے افغانستان کے بنیادی ڈھانچے اور معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کی بھی دعوت دی۔

تاہم انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا خواتین اور لڑکیوں کے خلاف طالبان کی پابندیاں اور کریک ڈاؤن عالمی سطح پر افغانستان کو تسلیم کیے جانے میں رکاوٹ ہیں تو افغان وزیر خارجہ نے اس سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کیا۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان افغانستان کو مستحکم بنانے اور انسداد دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدوں کی پاسداری میں ناکام رہے ہیں۔

امریکی ترجمان کے مطابق طالبان نے دہشت گرد گروہوں کو افغانستان کو حملوں کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کرنے سے روکنے کے بجائے انہیں وہاں سرگرمیوں کی اجازت دی۔ ترجمان نے واضح کیا کہ امریکا طالبان سے صرف اسی وقت بات کرتا ہے جب یہ امریکی عوام کے مفاد میں ہو۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انخلا کے تقریباً پانچ سال بعد طالبان حکومت عالمی تنہائی ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم کسی یورپی ملک نے طالبان انتظامیہ کو افغانستان کی قانونی حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کیا اور طالبان حکومت کو اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں تک بھی مکمل رسائی حاصل نہیں۔

مزید خبریں

Back to top button