آبنائے ہرمز کے اطراف اب بھی جھڑپیں، جنگ ختم ہونی چاہئے، ایران، عراق

تہران(ویب ڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ لبنان سے اسرائیل کا انخلا اور حملے روکنا مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ کی ذمہ داری ہے۔
عراق میں عراقی وزیر خارجہ فواد حسین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان گہرے تعلقات ہیں، عراقی حکومت نے ایران پر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران ، بغداد کے درمیان سٹریٹجک تعلقات کو وسعت دینا چاہتے ہیں، عراقی ہم منصب کیساتھ خطے کے اہم امور پر بات چیت ہوئی، عراق پہنچنے پر شاندار استقبال پر عراقی ہم منصب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، امریکی حملے آبنائے ہر مز کی مکمل بحالی میں رکاوٹ ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں عراق کا دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، عراق کی نئی حکومت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، آبنائے ہر مز پر ہمارا کنٹرول ہے، اسرائیل کو لبنان کے قبضے والے علاقوں سے نکل جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عراق کے دو شہروں میں آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کو ترتیب دیا جائے گا، امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ اسرائیل کو لبنا ن پر حملوں سے روکے، ایم او یو کے مطابق لبنان پر اسرائیلی حملے روکنا امریکہ کی ذمہ داری ہے۔
عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے اطراف اب بھی جھڑپیں ہو رہی ہیں، آبنائے ہر مز بند ہونے سے عراقی تیل کی سپلائی رک گئی تھی، یہ جنگ پوری دنیا کیلئے نقصان دہ ہے، جنگ کو اب ختم ہونا چاہئے۔
فواد حسین نے کہا کہ خطے کو محفوظ رکھنے کیلئے تمام ممالک کو کام کرنا ہوگا، ایرانی ہم منصب سے باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر گفتگو ہوئی، ٓبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، ایران سے تعلقات کی بنیاد سٹریٹجک تعاون ہے۔
عراقی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کی ہمیشہ مخالفت کی، مغربی ایشیا میں سکیورٹی بڑھانے کیلئے ایران سے تعاون کریں گے، جنگ کا تسلسل پورے خطے کی تباہی کا سبب بنے گا۔



