فرعونِ ہندکاغرورخاک میں:کاکروچ موومنٹ میں کرپان تھامے سکھوں اور کسانوں کی انٹری نے تختِ دہلی ہلا دیا!

معظم فخر
اقتدار کے اترائے ہوئے ایوانوں کو دھول چٹانے کے لیے جب عوامی غیظ و غضب سڑکوں پر اترتا ہے، تو وقت کے سب سے بڑے سرکشش اور فرعون صفت حکمران کے لہجے سے بھی تکبر کی بو کافور ہونے لگتی ہے۔ جو نریندر مودی گزشتہ کئی سالوں سے اپنے گودی میڈیا کے غباروں، کنگنا رناوت جیسے چاپلوسوں کی نعرے بازی اور مصنوعی چمک دمک کے سہارے ہندوستان کے ہندوتا والے مطلق العنان حاکم بنے بیٹھے تھے، آج دارالحکومت نئی دہلی کی سڑکوں پر گونجتے نوجوانوں، مسلمان ،عیسائی ،ہندو، سکھ اور کسانوں کے نعروں نے ان کا سارا غرور مٹی میں ملا دیا ہے۔
میڈیکل کے امتحانات اور سرکاری نوکریوں کے پرچوں کی کھلے عام فروخت، کرپشن کی انتہا اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کا سرِعام سودا کرنے والے نظام پر جب ملک کا باشعور نوجوان ‘کاکرچ موومنٹ’ کے پرچم تلے سڑکوں پر نکلا، تو گجرات کے اس چائے والےنے روایتی ہتھکنڈے اپناتے ہوئے پہلے تو اپنے دربار کے پالتو صحافیوں سے اس تحریک کو بدنام کروایا، پھر پولیس کا ننگا ناچ نچا کر پرامن طلباء کے سر پھاڑے، جنتر منتر اسکوائر کو لہولہان کیا اور ملک کے معماروں کے جذباتی والدین کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔
لداخ کی برفانی پہاڑیوں پر ملک کے ماحولیاتی تحفظ اور آئینی حقوق کے لیے سونم وانگچک کئی دنوں سے بھوک ہڑتال پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، لیکن اقتدار کی ہوس میں اندھے حاکم کے کان پر جوں تک نہ رینگی، حتیٰ کہ بالی ووڈ کے صاحبِ طرز اور جرات مند اداکار نصیر الدین شاہ کو بھی چیخ کر اس بے حس اور جاہلانہ رویے کی قلعی کھولنی پڑی۔
مگر مودی سرکار کا تختِ طاؤس اس وقت زلزلے کی زد میں آیا جب پنجاب کے غیور کسان، کرپان تھامے سکھ برگیڈ اور عام لوگ اپنے بچوں کا ہاتھ تھام کر اس فرعونی نظام کے خلاف دہلی کے سٹرکوں پرآ ڈٹے۔ کسانوں کی آمد کا خوف، جن کے سامنے یہ حکومت پہلے بھی گھٹنے ٹیک چکی تھی، اتنا شدید تھا کہ مہینوں سے گنگ بنے رہنے والے وزیر اعظم کو اچانک ایکس پر آ کر اپنے "پیارے نوجوانوں کے مستقبل” کی فکر لاحق ہو گئی اور فاسٹ ٹریک عدالتوں کے تسلی بخش لولی پاپ بانٹنے پڑے۔
مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے؛ یہ تاخیر سے آیا ہوا بیان اور دکھاوے کی ہمدردی مودی کے خوف، بوکھلاہٹ اور اخلاقی شکست کا اعتراف ہے۔ اب نہ ہندو مسلمان زہر گھولنے والا پروپیگنڈا کام آئے گا اور نہ ہی میڈیا کی پردہ پوشی، کیونکہ جب طلباء کی پامال شدہ امیدیں، کسانوں کا عزم، سکھوں کی غیرت اور سونم وانگچک کا خونِ جگر ایک ساتھ مل کر صدا بلند کرتے ہیں، تو مودی جیسے ظالم حکمرانوں کی بادشاہت کا سورج غروب ہونا طے ہو جاتا ہے۔



