خلا میں میٹھی زندگی کے آثار؟ ستاروں کے درمیان’’ چینی ‘‘ کی حیران کن دریافت

نیو یارک (ویب ڈیسک) خلا کی وسعتوں میں تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے ستاروں کے درمیان موجود گیس اور گرد کے بادلوں میں ایک پیچیدہ قسم کی چینی دریافت کی ہے، جسے "ایریتھرولوز” کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ زندگی کے لیے ضروری کیمیائی اجزا صرف زمین تک محدود نہیں بلکہ ہماری کہکشاں کے دیگر حصوں میں بھی موجود ہو سکتے ہیں۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ یہ خاص قسم کی چینی ملکی وے کہکشاں کے مرکز کے قریب موجود ایک بڑے گیس کے بادل میں دریافت کی گئی۔
سائنسدانوں نے اسپین میں نصب دو بڑی ڈش نما ریڈیو دوربینوں کی مدد سے کہکشاں کے مرکز کے قریب موجود گیس کے بادل کا مشاہدہ کیا۔ بعد ازاں دوربین سے حاصل ہونے والے سگنلز کا لیبارٹری میں موجود نمونوں سے موازنہ کرکے اس شکر کی موجودگی کی تصدیق کی گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ وہی قدرتی چینی ہے جو زمین پر عام طور پر رسبری پھل اور بعض کاسمیٹک مصنوعات میں پائی جاتی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایریتھرولوز خود زندگی کے آغاز کے لیے کافی نہیں، تاہم یہ آسانی سے ایسی کیمیائی شکل اختیار کر سکتی ہے جو زمین پر زندگی کے ابتدائی مراحل میں اہم کردار ادا کرنے والی چینیوں سے مشابہ ہو۔
ماہرین کے مطابق چینی صرف ذائقے کے لیے استعمال ہونے والی چیز نہیں بلکہ جانداروں کے خلیوں کی توانائی اور ڈی این اے کی تشکیل جیسے بنیادی حیاتیاتی عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اسی لیے خلا میں ایسی پیچیدہ مالیکیولز کی موجودگی سائنسدانوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
یونیورسٹی آف ایریزونا کی ماہر فلکیات ایریکا ہیمڈن نے کہا کہ یہ دریافت کہکشاں میں آزادانہ طور پر تیرنے والے پیچیدہ کیمیائی مواد کی ایک شاندار مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ چینی خود زندگی شروع کرنے کے لیے کافی نہیں، لیکن یہ ایسے مرکبات میں تبدیل ہو سکتی ہے جو زمین پر زندگی کے آغاز کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔



