قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی 74برس کی عمر میں انتقال کر گئے

دوحہ (جانوڈاٹ پی کے\ویب ڈیسک) قطر کے موجودہ امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے والد اور سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے 1995 سے 2013 تک قطر پر حکمرانی کی، بعد ازاں اقتدار اپنے بیٹے شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے سپرد کر دیا۔ اقتدار کی منتقلی کے وقت شیخ تمیم کی عمر 33 برس تھی۔
شیخ حمد کو جدید قطر کا معمار تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے تقریباً 18 سالہ دور حکومت میں قطر نے توانائی، سفارت کاری، سرمایہ کاری، میڈیا اور عالمی سیاست کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
ان کے دور میں قطر مائع قدرتی گیس کی پیداوار اور برآمدات کا عالمی مرکز بنا، گیس کی ریکارڈ برآمدات سے ملک کی معیشت مضبوط ہوئی اور قطر کو عالمی سطح پر ایک بااثر ریاست کے طور پر شناخت ملی۔
شیخ حمد کے دور حکومت میں عالمی نشریاتی ادارہ الجزیرہ قائم کیا گیا، جس نے عرب دنیا میں صحافت کے منظرنامے پر گہرا اثر ڈالا۔ تاہم ادارے کی پالیسیوں پر بعض عرب ممالک اور مغربی حکومتوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آتے رہے۔
ان کے دور میں قطر ایئرویز دنیا کی معروف فضائی کمپنیوں میں شامل ہوئی، دوحہ کا جدید بین الاقوامی ہوائی اڈہ تعمیر کیا گیا، جبکہ قطر نے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بھی کی۔
سفارتی میدان میں بھی شیخ حمد نے قطر کو نمایاں مقام دلایا۔ ان کی قیادت میں قطر نے سوڈان، لبنان، فلسطین اور افغانستان سمیت مختلف تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کیں۔ 2012 میں وہ غزہ کا دورہ کرنے والے پہلے سربراہ مملکت بنے، جہاں انہوں نے تعمیراتی منصوبوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا۔
علاقائی سیاست میں قطر نے ان کے دور میں فعال کردار ادا کیا۔ عرب بہار کے دوران لیبیا اور شام سمیت مختلف معاملات میں قطر کی پالیسیوں نے عالمی توجہ حاصل کی، تاہم ایران، حماس اور اخوان المسلمون سے تعلقات کے باعث بعض ممالک کے ساتھ اختلافات بھی پیدا ہوئے۔
شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کو ایسے رہنما کے طور پر یاد کیا جائے گا جنہوں نے محدود آبادی اور رقبے رکھنے والی ریاست قطر کو عالمی سیاست، معیشت، کھیل اور میڈیا کے میدان میں ایک بااثر ملک بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔



