ڈیپلو میں مبینہ پولیس تشدد سے نوجوان کی ہلاکت، ورثا کا احتجاج، دو متضاد ایف آئی آرز درج

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھرپارکر کے شہر ڈیپلو میں مبینہ پولیس تشدد سے نوجوان کی ہلاکت کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی، مقتول کے ورثا اور شہریوں نے احتجاج کیا، جبکہ واقعے کے حوالے سے دو متضاد ایف آئی آرز درج کر لی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈیپلو پولیس نے جمعہ کی شام مبینہ طور پر سات بکریاں چوری کرنے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا تھا، جن میں سے ایک نوجوان رسول بخش ولد پیر بخش دل، سکنہ گاؤں بٹڑیار، پراسرار حالات میں جاں بحق ہوگیا۔
مقتول کے ورثا نے ڈیپلو اسپتال پہنچ کر احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نوجوان کو دورانِ حراست پولیس تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث اس کی موت واقع ہوئی۔
واقعے کے بعد لاش کا پوسٹ مارٹم جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں کیا گیا، جس میں گردن کی ہڈی (مہرہ) ٹوٹنے اور جسم کے مختلف حصوں پر زخموں کی تصدیق کی گئی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد واقعے کو قتل قرار دیتے ہوئے تین پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ ورثا نے ابتدائی طور پر لاش وصول کرنے سے انکار کیا اور ڈی ایس پی ماجد قائم خانی سے مذاکرات کیے، تاہم مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ان کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی گئی، جس کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔
دوسری جانب بلاول ہاؤس کے ترجمان سریندر ولاسائی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایف آئی آر مقتول کے ورثا کی مرضی کے مطابق درج کی جائے اور ڈیپلو پولیس میں موجود مبینہ "کالی بھیڑوں” کے خلاف کارروائی کی جائے۔
رکن سندھ اسمبلی ارباب لطف اللہ نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو معاملہ قانون کے مطابق شفاف انداز میں حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے واقعے پر مختلف اوقات میں متضاد بیانات سامنے آئے۔ پہلے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم سڑک پر گرنے سے جاں بحق ہوا، بعد ازاں کہا گیا کہ اس نے پولیس گاڑی سے چھلانگ لگائی، جبکہ بعد میں بیان دیا گیا کہ اسے زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔
پولیس کے مختلف بیانات کے باعث معاملہ مزید متنازع ہوگیا، جبکہ پولیس اور ڈاکٹروں کے مؤقف میں بھی اختلافات سامنے آئے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق ڈیپلو تھانے پر ماضی میں بھی مبینہ نجی ٹارچر سیل، منشیات فروشوں کی سرپرستی اور شہریوں پر تشدد جیسے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔



