سپریم کورٹ کا تعلیمی اداروں میں ہراسگی کے خلاف سخت حکم، مؤثر شکایتی نظام اور انکوائری کمیٹیاں قائم کرنے کی ہدایت

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) سپریم کورٹ نے تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسگی کے خلاف مؤثر نظام قائم کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تعلیمی ادارے صرف درسگاہیں نہیں بلکہ محفوظ ماحول کی علامت ہونے چاہئیں، جہاں خواتین کی عزت، وقار اور تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
جسٹس محمد علی مظہر کی جانب سے جاری 12 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جنسی ہراسگی قانون، اخلاقیات اور انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ایسے عمل کو برداشت کرنے والا ادارہ اپنے تعلیمی مشن سے انحراف کرتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ہراسگی کو برداشت کرنے سے طاقت کے غلط استعمال کو جواز ملتا ہے اور خاموشی کو سچ پر ترجیح دی جاتی ہے۔ خاتون اساتذہ کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بنانا قانون، اخلاقیات اور انسانی وقار کے منافی ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ادارے کے سربراہ کی بنیادی ذمہ داری محفوظ اور صحت مند تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے، جبکہ کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی کسی صورت قابل قبول نہیں۔
عدالت نے کہا کہ تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں ہراسگی کے خلاف واضح ضابطہ اخلاق پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ ہر ادارے میں قانون کے مطابق ان ہاؤس انکوائری کمیٹی کا قیام لازمی قرار دیا جائے۔
سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ خواتین اساتذہ کو شکایات کے فوری اور براہ راست ازالے کے لیے مؤثر مواقع فراہم کیے جائیں، جبکہ سنجیدہ الزامات پر غیر ضروری نرمی مستقبل میں ایسے رویوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بن سکتی ہے۔
عدالت نے فیصل آباد کے گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن سینٹر کی سابق ہیڈمسٹریس شازیہ اقبال کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کی پانچ سال سروس ضبط کرنے کی سزا بحال کر دی۔
شازیہ اقبال کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی تھی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ادارے کے اسپیچ تھراپسٹ کامران خان کو غیر قانونی طور پر سینٹر میں رہنے دیا، جس کے باعث ہاؤس رینٹ کی کٹوتی نہ ہونے سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق اسپیچ تھراپسٹ کامران خان پر الزام تھا کہ وہ خاتون اساتذہ کو بلیک میل اور جنسی طور پر ہراساں کرتا تھا، جس سے تعلیمی ادارے کا ماحول خراب ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ خاتون اساتذہ کی تحریری شکایات کے باوجود ہیڈمسٹریس نے ملزم کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ محکمہ تعلیم نے برطرفی کے بجائے پانچ سال سروس ضبط کرنے کی سزا دی تھی، تاہم پنجاب سروس ٹربیونل نے سزا کم کر کے ایک سال کر دی تھی، جسے سپریم کورٹ نے بحال کر دیا۔



