عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا سخت نوٹس، جیل حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کے خلاف دائر درخواستوں پر تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قیدِ تنہائی اور جیل میں خلافِ قانون سلوک سے متعلق سنگین الزامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے علیمہ خانم اور مبشرہ مانیکا کی درخواستوں پر 10 صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ درخواستوں میں لگائے گئے الزامات کی نوعیت سنگین ہے، اس لیے دوسرے فریق کو نوٹس اور جیل حکام کی رپورٹ حاصل کیے بغیر انہیں مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں سخت اور سادہ قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم انہیں قیدِ تنہائی کی سزا نہیں دی گئی۔
حکم نامے کے مطابق نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے الزامات بے بنیاد ہیں اور یہ سیاسی مقاصد کے لیے عائد کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت کی ہے کہ وہ حقائق پر مبنی تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں، جس میں واضح کیا جائے کہ اگر دونوں قیدیوں کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے تو کس اتھارٹی کے حکم پر رکھا گیا، اس کی قانونی بنیاد کیا ہے اور اس کی مدت کتنی ہے۔
عدالت نے مزید ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جیل میں موجودہ صورتحال، جیل رولز کے مطابق فراہم کی جانے والی سہولیات، متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزات بھی آئندہ سماعت پر پیش کی جائیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، آئی جی جیل خانہ جات اور نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ جیل حکام کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 6 اگست تک ملتوی کر دی۔



