ایل بی او ڈی ڈھورو پران منصوبے میں سست روی کے خلاف آبادگاروں کا احتجاج

مون سون سے قبل ڈھورو پران منصوبہ مکمل نہ ہوا تو سیلابی خطرات بڑھ جائیں گے، مظاہرین

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے)براعظم ایشیا کے سب سے بڑے سیم نالے لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (ایل بی او ڈی) کے ڈھورو پران بحالی منصوبہ پر جاری تعمیراتی کام کی غیر معمولی سست رفتاری،مبینہ بے ضابطگیوں، بدعنوانیوں، ناقص منصوبہ بندی اور پانی کی نکاسی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے خلاف ایل بی او ڈی سے متصل یونین کونسلوں کے رہائشیوں، آبادگاروں، ٹیل آبادگار ایسوسی ایشن نارا کینال اور سندھ آبادگار تنظیم ملکانی شریف کے زیر اہتمام پنگریو کے قریب آر ڈی 297، گاؤں امیر بخش کلوئی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے حکومت سندھ، محکمہ آبپاشی اور منصوبے پر عملدرآمد کرنے والے متعلقہ اداروں کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مون سون بارشوں کی آمد سے قبل ڈھورو پران بحالی منصوبہ پر جاری تعمیراتی کام مکمل نہ ہونے کی صورت میں وسیع زرعی رقبہ، انسانی آبادیاں اور بنیادی ڈھانچہ ایک بار پھر شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں، تعمیراتی رفتار انتہائی سست ہے، عارضی بند باندھنے سے قدرتی نکاسی آب متاثر ہو چکی ہے جبکہ مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور ناقص نگرانی نے مقامی آبادی میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین فیاض شاہی راشدی۔طارق محمودآرائیں۔ایازکھوسواوردیگر نے کہا کہ ڈھورو پران بحالی منصوبہ سندھ کے نکاسی آب کے بڑے نظام ایل بی او ڈی کا نہایت اہم حصہ ہے۔ آر ڈی 297 وہ حساس مقام ہے جہاں ڈھورو پران، میرپورخاص مین ڈرین (ایم ایم ڈی) اور ایل بی او ڈی کے نکاسی آب کے نظام کو جدید ریگولیٹرز کے ذریعے مربوط کیا جانا ہے تاکہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے دوران پانی کا بہاؤ محفوظ انداز میں جاری رہ سکے، مگر تعمیراتی کام کی سست رفتاری کے باعث پانی کی قدرتی گزرگاہیں محدود ہو گئی ہیں اور علاقے کے لوگوں میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ مقررین نے کہا کہ ایل بی او ڈی منصوبہ بنیادی طور پر زیریں سندھ کے زرعی علاقوں کو سیم و تھور، بارشوں اور سیلابی پانی سے محفوظ رکھنے کے لیے قائم کیا گیا تھا جبکہ ڈھورو پران تاریخی طور پر قدرتی آبی گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اس مقام پر تعمیراتی سرگرمیاں بروقت مکمل نہ ہوئیں اور پانی کی نکاسی بحال نہ کی گئی تو صرف ضلع بدین ہی نہیں بلکہ میرپورخاص، سانگھڑ، عمرکوٹ اور دیگر اضلاع کا نکاسی آب کا پورا نظام متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ یہی مقام مختلف ڈرینیج چینلز کو باہم مربوط کرتا ہے۔ مقررین نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران بدین، میرپورخاص، سانگھڑ اور دیگر اضلاع کے متعدد علاقے کئی ہفتوں تک زیر آب رہے، ہزاروں مکانات منہدم ہوئے، لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی، باغات اور فصلیں تباہ ہوئیں، مویشی ہلاک ہوئے اور دیہی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ پانی کی بروقت نکاسی نہ ہونے سے عوام کو طویل عرصہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق انہی تلخ تجربات کے بعد ڈھورو پران بحالی منصوبہ شروع کیا گیا تھا تاکہ آئندہ ایسے نقصانات سے بچا جا سکے، تاہم موجودہ رفتار سے منصوبے کی بروقت تکمیل مشکوک دکھائی دیتی ہے۔ مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ منصوبے کی پیش رفت کے بارے میں مقامی آبادی اور منتخب عوامی نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا، جس سے شفافیت پر بھی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ مون سون بارشوں سے قبل آر ڈی 297 پر ریگولیٹر، انڈر پاس اور دیگر حفاظتی تعمیرات فوری مکمل کی جائیں، دونوں اطراف قائم عارضی بند ختم کرکے پانی کی قدرتی نکاسی کے تمام راستے بحال کیے جائیں، منصوبے میں مبینہ بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور ڈھورو پران بحالی منصوبہ پر جاری تعمیراتی کام کی رفتار ہنگامی بنیادوں پر بڑھائی جائے تاکہ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی، انسانی آبادیاں، سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچہ ممکنہ سیلابی تباہی سے محفوظ رہ سکے۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان مطالبات پر فوری عمل درآمد نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مزید سخت احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ ادارواور حکام پر عائد ہوگی۔

مزید خبریں

Back to top button