ایران امریکہ مذاکرات کا اگلا دور شہید خامنہ ای کی آخری رسومات کے بعد ہوگا، دفتر خارجہ

اسلام آباد، دوحہ (جانوڈاٹ پی کے\ویب ڈیسک) ایران امریکہ مذاکرات کے ثالث پاکستان اور قطر نے کہا ہے کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے قطری اور پاکستانی ثالثوں سے الگ الگ بات چیت کی جس میں مثبت پیش رفت ہوئی اور فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق قطری اور پاکستانی ثالثوں نے دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں مکمل کیں، جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق مختلف امور پر مثبت پیش رفت ہوئی، یہ پیش رفت لیک لوسرن سربراہی اجلاس میں ہونے والی بات چیت کی بنیاد پر ہوئی۔

دفتر خارجہ کے مطابق فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ عرصے میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، جبکہ اگلی ملاقات سابق ایرانی سپریم لیڈر کی تدفین کی تقریبات کے بعد جلد از جلد منعقد کی جائے گی۔

قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایکس پر بتایا کہ اگلی ملاقات ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے بعد ’جلد از جلد‘ طے کی جائے گی۔

خیال رہے کہ آخری رسومات ہفتے کو تہران میں شروع ہونے والی ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار کاظم غریب آبادی کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے پر بات چیت کے لیے قطر میں موجود تھے۔

قطری حکومت کے بیان کے مطابق وٹکوف اور کشنر نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی سے بھی ملاقات کی، مذاکرات کاروں کا مقصد تفصیلات طے کرنا ہے تاکہ اعلیٰ رہنماؤں کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ میں صحافیوں کو بتایا کہ بات چیت میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک سے متعلق تفصیلات شامل تھیں۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ ظاہر ہے ہم جوہری مسئلے کے حوالے سے فکرمند ہیں۔ ہم اس بارے میں بات چیت شروع کرنے جا رہے ہیں۔‘

قطری وزیر خارجہ شیخ محمد نے ایرانی مذاکرات کار کاظم غریب آبادی اور دیگر ایرانی حکام سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستانی ثالث بھی موجود تھے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایرانی وفد کی امریکی فریق کے ساتھ کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی اور ثالثوں کے ساتھ ان کی بات چیت کا محور لبنان اور ایران کے کچھ منجمد اثاثے واپس کرنے کے منصوبے تھے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کے حوالے سے دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے اختتام کا اعلان کیا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے غریب آبادی کے حوالے سے بتایا کہ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے اور انہیں ریکارڈ کرنے کے لیے آج تک مواصلاتی چینل قائم کر لیا جائے گا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ قطر میں ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت اس امر کی ابتدائی علامت ہے کہ حالیہ جھڑپوں کے بعد سفارت کاری برقرار ہے جس نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر سوار ہونے سے پہلے صحافیوں کو بتایا کہ ’جہاں تک حالات کا تعلق ہے تو ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا عمل اچھی طرح آگے بڑھ رہا ہے۔

قطر اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اور گذشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں حتمی شکل دی جانے والی مفاہمت کی یادداشت میں 60 دن کی جنگ بندی، بند کی گئی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جنگ اور ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے کے لیے ٹائم ٹیبل شامل ہے۔

مزید خبریں

Back to top button