نان ایم ٹیگ گاڑیوں پر 50 فیصد اضافی ٹول کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا، این ایچ اے کا نوٹیفکیشن چیلنج

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)نان ایم ٹیگ اور کم بیلنس والے ایم ٹیگ رکھنے والی گاڑیوں پر 50 فیصد اضافی ٹول/جرمانہ عائد کرنے کے اقدام کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔
ایڈووکیٹ محمد جلال حیدر کی جانب سے دائر درخواست میں وزارتِ مواصلات، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے، جبکہ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اس اقدام کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ این ایچ اے نے 30 مئی 2025 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے ذریعے نان ایم ٹیگ اور کم بیلنس والے ایم ٹیگ رکھنے والی گاڑیوں پر 50 فیصد اضافی ٹول/جرمانہ عائد کیا، حالانکہ این ایچ اے ایکٹ کی دفعہ 10 کے تحت ادارہ صرف ٹول وصول کرنے کا مجاز ہے، جرمانہ عائد کرنے کا کوئی قانونی اختیار موجود نہیں۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ این ایچ اے قانون میں نہ نان ایم ٹیگ گاڑیوں اور نہ ہی کم بیلنس والے ایم ٹیگ صارفین پر جرمانہ عائد کرنے کی کوئی شق موجود ہے، اس لیے یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 4، 18، 24 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 30 مئی 2025 کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، اس کے تحت وصول کی گئی اضافی رقم عوام کو واپس کرنے کا حکم دیا جائے، جبکہ ایم ٹیگ بیلنس کے نظام اور اس کے طریقہ کار کی مکمل تفصیلات بھی طلب کی جائیں۔
یہ درخواست یحییٰ فرید خواجہ نے ایڈووکیٹ محمد جلال حیدر کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی۔



