پاکستان کے لیے پانی صرف قدرتی وسیلہ نہیں، قومی بقا کا معاملہ ہے، سندھ طاس معاہدہ امن اور علاقائی استحکام کی علامت ہے، عطا اللہ تارڈ


اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی بقا کا معاملہ ہے، جبکہ دریائے سندھ ملک کی تاریخ، تہذیب، زراعت اور معیشت کی بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے شرکاء اور مختلف ممالک سے آئے ہوئے مندوبین کو خوش آمدید کہا۔ سیمینار میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سمیت ملکی و غیر ملکی شخصیات نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک معاہدہ نہیں بلکہ امن، علاقائی استحکام اور کروڑوں انسانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک اہم بین الاقوامی فریم ورک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر گفتگو دراصل پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگیوں سے متعلق ہے۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ وادی سندھ کی عظیم تہذیب پاکستان کی اصل شناخت ہے اور دریائے سندھ صدیوں سے دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کی آبیاری کرتا آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ دراصل دریائے سندھ کی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زراعت پاکستان کی قومی معیشت کا بنیادی ستون ہے اور دریائے سندھ اس کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق چھ دہائیاں قبل ہونے والا سندھ طاس معاہدہ دنیا کے سب سے پائیدار آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے اور خطے میں تعاون اور استحکام کی اہم مثال ہے۔