دوحہ میں ایران سے ملاقات اہم بھی ہو سکتی ہے، نہیں بھی، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، ٹرمپ

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دوحہ میں ایران کے ساتھ متوقع ملاقات اہم بھی ثابت ہو سکتی ہے اور شاید نہ بھی ہو، تاہم جلد واضح ہو جائے گا کہ مذاکرات کس سمت جاتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اجلاس دوحہ میں متوقع ہے اور امریکا اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر کافی مثبت پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم حتمی نتائج کا انتظار کرنا ہوگا۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ ان کے بقول عسکری لحاظ سے امریکا اپنی پوزیشن مضبوط کر چکا ہے اور ایران بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتا دکھائی دیتا ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان دوحہ میں ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ اور مذاکراتی ٹیم نے آئندہ چند روز میں کسی بھی سطح پر امریکا سے مذاکرات یا ملاقات کی تردید کر دی ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اعلیٰ سطح اجلاسوں میں شرکت کے لیے اس ہفتے دوحہ جائیں گے۔



