مائیک ہیسن نے کرکٹرز کی پرفارمنس بہتر بنانے کیلئے سینٹرل کنٹریکٹ نظام میں بڑی تبدیلی کا اعلان کر دیا

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان وائٹ بال کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کا کہنا ہے کہ کرکٹرز کی پرفارمنس کو بہتر بنانے کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ کا طریقہ کار تبدیل کیا جا رہا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ تمام فارمیٹس کے لیے ایک سینٹرل کنٹریکٹ کا طریقہ کار ختم ہو چکا ہے، ٹی 20 فارمیٹ کے کھلاڑی کو فرسٹ کلاس کھیلنے کا کہا جائے گا تو وہ اپنے فارمیٹ میں اسپیشلائزڈ نہیں ہو سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ کسی کھلاڑی نے ٹیسٹ میں خود کو ماہر ثابت کرنا ہے تو پھر فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا ہوگی، اب پی سی بی ایسا کنٹریکٹ بنا رہا ہے جس سے کرکٹرز اسپیشلائزڈ ہو کر پرفارمنس کو بہتر کریں۔

وائٹ بال کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ نے کہا ہے کہ پہلے ہم نہ ہوم سیریز جیت رہے تھے اور نہ ہی بیرونِ ملک سیریز جیت رہے تھے، 20 فیصد میچز جیتنے والی ٹیم اگر ملے تو یہ ایک چیلنج ہوتا ہے، ہم اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ سیریز جیت رہے ہیں، اب 20 فیصد سے 70 فیصد تک پہنچے ہیں۔

مائیک ہیسن نے کہا کہ جب 20 فیصد کامیابی کی شرح ہو تو آئی سی سی ایونٹس نہیں جیتے جاسکتے، 2023، 2024 اور 2025 میں ہم آئی سی سی ایونٹس میں پہلے راؤنڈ سے آگے نہیں گئے، 2026 میں ہم سپر 8 مرحلے میں گئے، ہم ایک میچ انگلینڈ سے ہارے، ایک میچ ہمارا بارش کی نذر ہوا۔

اُنہوں نے کہا کہ ایشیاء کپ میں ہمیں چوتھے اور پانچویں نمبر کی ٹیم کہا گیا لیکن ہم فائنل کھیلے، میں سمجھتا ہوں کہ اب بھی بہتری کی ضرورت ہے اور بہتری آئے گی، ہمیں باقاعدگی سے جیتنا ہے، ایشین گیمز کے لیے جو کرکٹرز شامل نہیں وہ بھی مقابلے میں رہیں گے۔

وائٹ بال کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ نے کہا کہ ون ڈے ورلڈکپ کے لیے ہمارے پاس 15 ماہ کا وقت ہے، ہمیں اپنا پول بڑھانا ہے اور مزید 6 ماہ نوجوانوں کو آزمانا ہے، ہم نے ایشین گیمز میں نوجوان کھلاڑیوں کو ایکسپوژر دینا ہے، اس لیے ایسے کمبی نیشن کا انتخاب کیا، ہم ان کھلاڑیوں کو ایکسپوژر دے کر خود کو موقع دے رہے ہیں کہ ایسے کھلاڑی دیکھ سکیں جنہیں ہم چاہتے ہیں۔

اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ایشین گیمز میں صرف بھارت نہیں بلکہ کئی دوسری اچھی ٹیمیں بھی ہیں، افغانستان ٹی 20 میں ہمیشہ خطرناک ٹیم رہی ہے، سری لنکن ٹیم بہتر ہو رہی ہے، ہم ایشین گیمز میں صرف ایک ٹیم کے بارے میں نہیں سوچ سکتے، ہماری ٹیم کا توازن اچھا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button