لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ،فرانزک ویڈیو شواہد کو انسانی گواہی پر فوقیت قرار، ایک مجرم کی سزا میں کمی، دوسرے کی عمر قید برقرار

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے دوہرے قتل کے مقدمے میں ایک ملزم محمد اعظم کی عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے دوسرے ملزم اعظم نعیم کو شک کا فائدہ دے کر قتل کے الزام سے بری کر دیا، جبکہ اس کی سزا 15 سال قید میں تبدیل کر دی۔
جسٹس محمد طارق ندیم نے اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ قتل کے مقدمات میں الیکٹرانک شواہد، خصوصاً فرانزک سے تصدیق شدہ ویڈیو، غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں اور اگر ان کی سائنسی بنیادوں پر تصدیق ہو جائے تو انہیں انسانی گواہی پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ زخمی گواہ کا بیان بھی ویڈیو اور میڈیکل شواہد سے مطابقت رکھنا ضروری ہے، صرف زخمی ہونا کسی گواہ کے ہر بیان کو درست ثابت نہیں کرتا۔ اگر عینی شہادت میڈیکل شواہد سے متصادم ہو تو اس بنیاد پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ غیر مصدقہ تصاویر کو بطور ثبوت قبول نہیں کیا جا سکتا، جبکہ چونکہ ویڈیو میں ملزمان کی شناخت تسلیم شدہ تھی، اس لیے فوٹو گرامیٹرک ٹیسٹ ضروری نہیں تھا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف اسلحہ کی برآمدگی کافی نہیں بلکہ اس کی فرانزک تصدیق بھی لازمی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ فوجداری قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ شک کا فائدہ ہر صورت ملزم کو دیا جائے۔ اسی بنیاد پر اعظم نعیم کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے قتل کے الزام سے بری کر دیا گیا، جبکہ محمد اعظم کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی گئی۔



