ٓآبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کچھ نہ کچھ فیس لی جا سکتی ہے،عمان

عمان(جانوڈاٹ پی کے)عمّان نے یورپی حکام کو بتایا ہے کہ آبنائے ہُرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو رقم دینا پڑ سکتی ہے۔
عمّانی حکام نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو اب جنگ سے پہلے کے حالات تک نہیں لے جایا جا سکتا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کچھ نہ کچھ فیس لی جا سکتی ہے۔
عمّانی حکام نے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی سمندری قوانین کی ہمیشہ پابندی کریں گے لیکن آبنائے ہرمز کو آلودگی سے پاک رکھنے اور جہازوں کو راہ داری میں مدد دینے کی خدمات کے لیے کچھ فیس لی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب قطر نے بھی آبنائے ہرمز سے ٹول وصولی سے متعلق ملے جلے سگنل دیے ہیں۔
امریکی خبری ادارے بلوم برگ کے مطابق امریکا، یورپ اور خلیج فارس کے عرب ملکوں کو اس بات پر تشویش ہے کہ عمّان، ایران کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس لینے کا کوئی نظام قائم کر دے گا۔
بلوم برگ کے مطابق ابھی یہ نہیں معلوم کہ عمّان جس فیس کی بات کر رہا ہے وہ لازمی ہو گی یا نہیں۔
دوسری جانب قطر نے بھی آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق ملے جلے سگنل دیے ہیں۔
منگل کو قطر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر طے کرے گا کہ سمندری راستوں میں جہاز رانی کیسے کی جائے اور اس پر آنے والا خرچ کیسے پورا کیا جائے۔ مگر دو روز بعد قطر نے خلیج تعاون کونسل کے اس بیان پر بھی دستخط کیے، جس میں کہا گیا تھا کہ کونسل آبنائے ہرمز پر فیس وصولی یا اس پر کنٹرول کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتی ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون پیر کو پیرس میں عمّان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کرنے والے ہیں، جس میں دونوں رہ نما سمندری راستوں کی سیکیورٹی پر بات چیت کریں گے۔
عمّانی وزارت خارجہ اور فرانس میں اس کے سفارت خانے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔



