نورِسحر اور دشتِ بلا:ذکرِ ازواجِ امامِ عالی مقام

​تحریر: نہال معظم

​تاریخِ انسانی کا سب سے بڑا المیه معرکہ کربلا ہے، جہاں حق و باطل کا وہ معرکہ برپا ہوا جس نے رہتی دنیا تک کے لیے اصول متعین کر دیے۔ نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول، حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے شجرِ اسلام کی وہ آبیاری کی جس کی مہک آج بھی کائنات کے گوشے گوشے کو معطر کر رہی ہے۔ لیکن اس لازوال داستانِ عزیمت کا ایک نہایت اہم، جذباتی اور پاکیزہ پہلو وہ عظیم خواتین ہیں جو اس سفرِ عشق میں امام عالی مقامؑ کی شریکِ حیات بنیں۔ وہ مخدراتِ عصمت جن کا ذکرِ خیر شرافت، ایثار اور صبر و رضا کی معراج ہے۔

​مستند ترین تاریخی مآخذ، جیسے شیخ مفید کی ‘الارشاد’ اور ابنِ کثیر کی ‘البدایہ والنہایہ’ کی روشنی میں امام عالی مقامؑ کی زندگی میں مختلف اوقات میں پانچ ازواج مطہرات کا ذکر ملتا ہے۔ ان میں سے کچھ مائیں کربلا کی تپتی ریت پر اپنے سہاگ اور جگر گوشوں کی قربانی کی عینی شاہد بنیں، تو کچھ اس عظیم معرکے سے قبل ہی دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں۔ آئیے، تاریخ کے معتبر پنوں سے ان عظیم ہستیوں کے احوال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

​حضرت رباب بنت امرء القیس

​حضرت رباب کا تعلق قبیلہ بنو کلب کے ایک معزز اور عالی مرتبت سردار گھرانے سے تھا۔ امام حسین علیہ السلام کو ان سے نہایت محبت اور مروت کا تعلق تھا۔ آپ کی عفت، فصاحت اور وفاداری تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ حضرت رباب وہ عظیم خاتون ہیں جو کربلا کے تپتے میدان میں امامؑ کے ساتھ موجود تھیں۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے چھ ماہ کے شیر خوار بچے، حضرت علی اصغرؑ کو پیاسا شہید ہوتے دیکھا اور اپنے سہاگ کی مظلومانہ شہادت کے بعد کوفہ و شام کی اسیری کے دلخراش مصائب جھلنے۔

​جب کوفہ کے دربار میں امام عالی مقامؑ کا سرِ مبارک لایا گیا، تو حضرت ربابؑ نے اپنے مظلوم شوہر کے سرِ انور کو گود میں رکھ کر جو پُردرد مرثیہ پڑھا، وہ تاریخ کے صفحات پر اشعار کی صورت میں یوں درج ہے:

​بے شک وہ ذات جو ایک ایسا نور تھی جس سے دنیا روشنی حاصل کرتی تھی،

آج کربلا میں مٹی پر بے گور و کفن پڑی ہے۔

​اے اللہ کے نبی کے نواسے! اللہ آپ کو ہماری طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے،

اور آپ حساب کی سختی سے محفوظ رکھے گئے ہیں۔

​آپ میرے لیے ایک مضبوط پہاڑ کی مانند تھے جس کی پناہ میں میں آتی تھی،

اور آپ ہمارے ساتھ انتہائی شفقت، مروت اور دینی اصولوں کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔

​اب ان یتیموں کا والی کون ہوگا؟ مانگنے والوں کو کون دے گا؟

اور کون ہے جو اب ہر مسکین و بے کس کو پناہ دے گا؟

​خدا کی قسم! اب آپ کے بعد میں کسی کو اپنے نکاح میں نہیں لاؤں گی،

یہاں تک کہ میں خود مٹی اور ریت کے نیچے چھپ جاؤں۔

​حضرت رباب نے اس عہد کو سچ کر دکھایا۔ مدینہ واپسی پر انہوں نے ہر رشتے کو ٹھکرا دیا اور اپنے مقتدا کی یاد میں ایک سال تک کھلے آسمان تلے شدید دھوپ میں بیٹھ کر سوگ منایا، یہاں تک کہ غمِ حسینؑ میں گھلتے گھلتے آپ دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ آپ کے بطن سے حضرت سکینہ اور حضرت علی اصغر پیدا ہوئے۔

​حضرت شہربانو

​حضرت شہربانو کا ذکر تاریخِ اسلام میں ایک منفرد اور پاکیزہ حیثیت رکھتا ہے۔ اکثر مستند روایات کے مطابق، آپ ایران کے آخری ساسانی بادشاہ یزدگرد سوم کی صاحبزادی تھیں، جن کا نکاح سید الشہداءؑ سے ہوا۔ ان کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ یہ ساداتِ حسینی کی ماں ہیں۔

​آپ کے بطنِ اطہر سے امام عالی مقام کے سب سے نامور فرزند، عبادت گزاروں کے امام، حضرت امام علی زین العابدین علیہ السلام پیدا ہوئے۔ مستند تاریخی حقائق کے مطابق، حضرت شہربانو اپنے بیٹے کی ولادت کے چند ہی دن بعد مدینہ منورہ میں وفات پا چکی تھیں، اسی لیے وہ معرکہ کربلا کے وقت اس دنیا میں موجود نہیں تھیں۔ لیکن ان کی آغوش سے پرورش پانے والے امام سجادؑ نے کربلا کے بعد جس طرح صبرو استقلال کے ساتھ دینِ مصطفیٰ کی حفاظت کی، وہ انہی کی پاکیزہ تربیت کا عکاس ہے۔

​حضرت لیلیٰ بنت ابی مرہ

​حضرت لیلیٰ کا تعلق طائف کے مشہور اور معزز قبیلے بنو ثقیف سے تھا۔ آپ کے دادا عروہ بن مسعود ثقفی وہ عظیم صحابی تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے "صاحبِ یٰسین” قرار دیا تھا۔ اگرچہ آپ خود بنو ثقیف سے تھیں، مگر آپ کی والدہ میمونہ بنت ابی سفیان تھیں، جس کی وجہ سے آپ کا ننھیال بنو امیہ سے ملتا تھا۔ اسی نسبی تعلق کی وجہ سے امام حسینؑ کے کڑیل جوان بیٹے، حضرت علی اکبر علیہ السلام کا نانا ابوسفیان تھا۔

​حضرت لیلیٰ کی کربلا میں موجودگی کے حوالے سے قدیمی اور مستند ترین تاریخی کتابیں (جیسے طبری یا الارشاد) خاموش ہیں، جس سے چوٹی کے مورخین اور محدثین کا یہ قوی اور غیر متنازعہ موقف سامنے آتا ہے کہ آپ معرکہ کربلا سے قبل ہی مدینہ منورہ میں رحلت فرما چکی تھیں۔

​تاہم، ان کا لختِ جگر جب کربلا کے میدان میں رسول پاکﷺ کی شبیہ بن کر اترا، تو اس کی شجاعت نے تاریخ کو حیران کر دیا۔ معرکہ کربلا کے دن یزیدی فوج نے حضرت علی اکبرؑ کو اسی ننھیالی تعلق کا طعنہ دیتے ہوئے پکارا تھا کہ "تمہارا امیر (یزید) سے قریبی رشتہ ہے، اگر چاہو تو ہم تمہیں امان دے سکتے ہیں”۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ شبہیہِ پیغمبر نے اس امان کو حقارت سے ٹھکرا دیا اور کڑک دار آواز میں فرمایا: "خدا کی قسم! رسول اللہﷺ سے قرابت داری اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ اس کا پاس رکھا جائے”۔ اور انہوں نے حق کی خاطر تڑپ کر جان دے دی مگر باطل کی امان قبول نہ کی۔

​حضرت ام اسحاق بنت طلحہ

​حضرت ام اسحاق مشہور صحابیِ رسول حضرت طلحہ بن عبید اللہ کی صاحبزادی تھیں۔ یہ خاتون ابتدا میں امام حسینؑ کے بڑے بھائی، ریحانۃ الرسول حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی زوجیت میں تھیں۔ امام حسنؑ نے اپنی شہادت سے قبل اپنے بھائی امام حسینؑ کو وصیت فرمائی تھی کہ "میری وفات کے بعد ام اسحاق کو اپنے عقد میں لے لینا تا کہ وہ اس درِ بتول سے جدا نہ ہوں”۔

​امام حسینؑ نے بھائی کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے ان سے نکاح کیا۔ حضرت ام اسحاق بھی کربلا کے اس پُرملال سفر اور بعد کی اسیری میں خاندانِ نبوت کے ساتھ شریک رہیں۔ آپ کے بطن سے ایک نہایت پرہیزگار صاحبزادی حضرت فاطمہ بنتِ حسین (فاطمہ کبریٰ) پیدا ہوئیں، جن کا نکاح امام حسنؑ کے بیٹے حسن مثنیٰ سے ہوا، جو کربلا میں شدید زخمی ہونے کے بعد محفوظ رہے تھے۔

​حضرت سلافہ یا ملومہ

​کتبِ تاریخ میں امام عالی مقام کی ایک اور زوجہ کا ذکر بھی ملتا ہے جن کا تعلق قبیلہ قضاعہ سے تھا، اور بعض مقامات پر ان کا نام سلافہ یا غزالہ بھی منقول ہے۔ ان کے بطن سے امام حسینؑ کے ایک صاحبزادے حضرت جعفر بن حسین پیدا ہوئے تھے۔ تاہم، جعفر کا انتقال بچپن یا لڑکپن میں ہی، امام حسینؑ کی زندگی میں مدینہ منورہ کے اندر ہو گیا تھا اور ان کی آگے کوئی اولاد نہیں بڑھی۔

​​امام حسین علیہ السلام کی ازواجِ مطہرات کی یہ مختصر مگر مستند تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ صرف رشتے نہیں تھے، بلکہ شرافت، تقویٰ اور شجاعت کے مراکز کا ایک ایسا سنگم تھا جس نے تاریخِ انسانی کو عظیم ترین کردار دیے۔ معتبر تاریخ گواہ ہے کہ امام عالی مقامؑ کی نسلِ مبارک صرف حضرت امام زین العابدینؑ سے آگے بڑھی۔ کربلا کے مصائب میں جہاں امامؑ کا صبر بے مثال تھا، وہاں ان کی بیویاں (حضرت رباب اور حضرت ام اسحاق) بھی عزم و استقلال کا وہ پہاڑ بن کر ابھریں جس نے باطل کے تکبر کو خاک میں ملا دیا۔ سلام ہو ان پاکیزہ ہستیوں پر جنہوں نے آلِ رسولؐ کا ساتھ دے کر صبرو رضا کی لازوال داستان رقم کی۔

مزید خبریں

Back to top button